فیس بک کے بعد چین کی مقبول ترین سوشل میڈیا ویڈیو ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے بھی اشتہارات پر پابندی عائد کر دی

بیجنگ : فیس بک کے بعد چین کی مقبول ترین سوشل میڈیا ویڈیو ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے بھی اشتہارات پر پابندی عائد کر دی۔بیجنگ بائیٹڈانس ٹیکنالوجی کمپنی کی تیار کردہ ٹک ٹاک ویڈیو ایپ کے تحت صارف 15 سیکنڈز تک کی ویڈیو پوسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ تازہ ترین ٹرینڈ کرنے والے گیتوں پر نوجوانوں کو گانے (لپ سنکنگ) اور رقص کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔کمپنی کے مطابق ٹک ٹاک ایپ تفریحی مواد کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے اس پر ایسے کوئی اشتہارات شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جو اشتعال انگیزی یا سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہوں جن اشتہارات پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں انتخابات، مسائل، کسی سیاسی شخصیت یا مہم کی تشہیر کرنے والے اشتہارات شامل ہیں۔
کمپنی کے مطابق اب سے اشتہارات کی شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے گا، اشتہار کو پوسٹ کرنے سے قبل صارف کی درج کردہ معلومات کو چیک کیا جائے گا اور اشتہار کے مواد کا بھی غور سے جائزہ لیا جائے گا۔کمپنی کے مطابق یہ اقدام ٹک ٹاک ایپ کی پرائیویسی سے بڑھ کر ان نوجوانوں کے لیے ہے جن کا اس قسم کے اشتہارات سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس فیس بک نے بھی اپنی ویب سائٹ پر سیاسی اشتہارات پوسٹ کرنے پر سخت شرائط نافذ کرتے ہوئے تصدیق لازمی قرار دی تھی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 4 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp