سپریم کورٹ نے سیل ٹیکس فراڈ کیس میں ایف بی آر کی جانب سے نجی کمپنی کو دئیے گئے شو کاز نوٹس کو غیر قانونی قرار دیدیا

ریونیو بورڈ کے طریقہ کار سے ٹیکس دینے کے خواہشمند افراد بھی ادائیگی نہیں کرینگے، جسٹس عمر عطاء بندیال کا اظہار برہمی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سیل ٹیکس فراڈ کیس میں ایف بی آر کی جانب سے نجی کمپنی کو دئیے گئے شو کاز نوٹس کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے جبکہ جسٹس عمر عطابندیال نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریونیو بورڈ کے طریقہ کار سے ٹیکس دینے کے خواہشمند افراد بھی ادائیگی نہیں کرینگے۔ جمعہ کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دور ان سماعت وکیل ایف بی آر بیرسٹر عمر نے کہاکہ اس کیس میں نجی کمپنی نے سیل ٹیکس کی مد میں تقریبا تین کروڑ کافراڈ کیا ہے،کمپنی نے 2001 سے 2005 تک سیل ٹیکس ادا نہیں کیا،2009 کے بعد کمپنی سیل ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے وکیل ایف بی آر سے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ اس کیس میں کہہ رہے ہیں کہ کمپنی ٹیکس ادا کرنے کیلئے آ گئی ہے اب پچھلا حساب بھی دیں ۔
انہوںنے کہاکہ یہ کیسا طریقہ اختیار کیا ہے آپ نے جو ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ بھی نہ کرے۔ انہوںنے کہاکہ اسی وجہ سے ہماری انڈسٹری بنگلادیش اور سرلنکا منتقل ہو رہی ہے،اگر ایسا ہوا تو بڑی زیادتی ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ آپ کو 2016 میں جا کر ہوش آیا کہ کمپنی نے 2005 کا ٹیکس ادا نہیں کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ قانون کے مطابق شو کاز نوٹس 5 سال کے اندر دینا ضروری ہوتا ہے۔
جسٹس عمر عطا ء بندیال نے کہاکہ اگر آپ 2009 میں شو کاز نوٹس دیتے تو بات قابل قبول تھی۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ ہمیں 2013 میں جا کر پتا چلا کہ اس نے سیل ٹیکس میں فراڈ کیا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ آپ کو 2013 میں پتہ چلا تو آپ نے نوٹس 2016 میں کیو کیا۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ 2013 میں سیل ٹیکس فراڈ کا پتہ چلا تو اس کی انکوائری شروع ہوئی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ آپ کو انکوائری کرتے ہوئے تین سال لگے گئے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ عدالت اپنی مرضی نہیں کر سکتی ہم نے قانون کو دیکھنا تھا۔ عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے نجی کمپنی کو دئیے گئے شو کاز نوٹس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے کہاکہ ایف بی آر قانون کے مطابق 5 سال کے اندر سیل ٹکس سے متعلق کمپنی کو شو کاذ نوٹس جاری کر سکتا تھا،ایف بی آر نے مقرہ مدت میں کمپنی کو نوٹس جاری نہیں کیا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 4 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp