Would You Pay Thousands Of Dollars Just To Let People Know You Have Money To Burn?

آپ کے پاس پیسے ہیں۔ کیا یہ بتانے کے لیےآپ ہزاروں ڈالر خرچ کریں گے؟


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_instagram' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_instagram' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
ایک نوجوان آئی ٹی پروفیشنل نے ایک بہت مہنگا معاشرتی تجربہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے گولڈن پرائس ٹیگ نامی ویب سائٹ بنائی ہے، جہاں پر صارفین ہزاروں ڈالر خرچ کر کے اپنی تصویر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر تصویر اپ لوڈ کرنے کی کم سے کم  فیس  ایک ہزار ڈالر ہے لیکن اگر کوئی چاہے تو اس سے زیادہ بھی ادائیگی کر سکتا ہے۔ اس ویب  سائٹ   پر اپ لوڈ ہوئی تصویر کے ساتھ  وہ رقم بھی لکھی ہوتی ہے، جو اسے اپ لوڈ کرنے کے لیے ادا کی گئی ہوتی ہے۔

گولڈن پرائس ٹیگ گزشتہ کئی ہفتوں سے  سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہے۔ اس ویب سائٹ پر اگرچہ ابھی چند افراد نے ہی اپنی تصاویر اپ لوڈ  کی ہیں لیکن اندازہ ہے کہ جلد ہی امرا کے بچے  اور انسٹاگرام سٹار بھی یہاں اپنی تصاویر پوسٹ کریں گے۔
گولڈن پرائس ٹیگ کو جرمنی کے سافٹ وئیر انجینئر  لیونارڈ وینسٹوک نے بتایا ہے۔ انہوں نے پچھلا ایک سال کوڈ اور ویب سائٹ سائٹ بنانے کی تعلیم حاصل کرنے میں لگایا ہے۔
یہ سائٹ انہوں نے اپنے دوستوں کو اپنی مہارت دکھانے کے لیے بنائی ہے۔ لیونارڈ ونے سب سے پہلے  خود ہی ایک ہزار ادا کر کے اس ویب سائٹ پر اپنی تصویر اپ لوڈ کی  اور اس کا لنک سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔گولڈن پرائس ٹیگ  پر ابھی تک صرف چند افراد نے ہی اپنی تصویر یں اپ لوڈ کی ہیں۔ ان سب کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ سب لیونارڈو کے ذاتی دوست ہیں۔
لیونارڈ کا کہنا ہے کہ  انسٹاگرام پر پہلی بار ایک اجنبی نے ان سے تصویر اپ لوڈ کرنے کے لیے  رابطہ کیا۔ اس تصویر میں اس شخص کو ہاتھ میں ایک شیمپئن پکڑے دکھایا گیا ہے، جس کی قیمت 1 ہزار ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔اس تصویر کو 308 لائکس ملے ہیں۔
بہت سے لوگوں نے اس طرح کی ویب سائٹ بنانے اور اس پر تصاویر اپ لوڈ کرنے والوں پر کافی تنقید کی ہے لیکن لیونارڈ کا  ماننا ہے کہ  ویب سائٹ کے بارے میں شائع ہونے والا ہر آرٹیکل  اسے مزید مشہور کر رہا ہے۔



تاریخ اشاعت : جمعرات 19 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں