بھارت کی جارح قیادت کا ہاتھ نیوکلیئر بٹن پر ہے جو ہندو بالادستی کے نظریئے پر چلتے ہوئے اقلیتوں پر ظلم ڈھا رہی ہے،

, اس طرح یہ نہ صرف علاقائی و عالمی امن بلکہ بھارت کے اپنے معاشرے کے لئے خطرہ بن گئی ہے، بھارتی حکومت کی انتہاء پسندانہ اور فسطائیت پر مبنی پالیسیاں ہٹلر اور مسولینی جیسی ہیں۔. بھارت بھی گزشتہ سات دہائیوں کی طرح کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہے گا،پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم پوری طاقت کے ساتھ اس کا جواب دیں گے، پاکستان اور ترکی کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات اور تذویراتی تعاون کو عوام کے مفاد میں مزید مضبوط بنایا جائے گا , , صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ترک میڈیا کے وفد سے ملاقات کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ۔ : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت کی جارح قیادت کا ہاتھ نیوکلیئر بٹن پر ہے جو ہندو بالادستی کے نظریئے پر چلتے ہوئے اقلیتوں پر ظلم ڈھا رہی ہے، اس طرح یہ نہ صرف علاقائی و عالمی امن بلکہ بھارت کے اپنے معاشرے کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔ وہ ترک میڈیا کے ایک وفد سے بات چیت کر رہے تھے جس نے پروفیسر ڈاکٹر حلیل توکر کی قیادت میں جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ دنیا گجرات کے قصائی سے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے احترام کی توقع نہیں رکھ سکتی۔ اس وقت بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے، وہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو طاقت کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا، بھارت بھی گزشتہ سات دہائیوں کی طرح کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہے گا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم پوری طاقت کے ساتھ اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کی ہندو بالادستی کی جنونیت بھارت کے سیکولر تشخص کو تبدیل کر رہی ہے اور جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ دیگر بھارت کے حالات کا تسلسل ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج بھارت کی اقلیتیں مسلسل خوف کا شکار ہیں۔
موجودہ بھارتی حکومت کی انتہاء پسندانہ اور فسطائیت پر مبنی پالیسیاں ہٹلر اور مسولینی جیسی ہیں۔ کئی دہائیوں سے بھارت کے زیر تسلط 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو گزشتہ چھ ہفتوں سے غیر قانونی فوجی قبضے کے ذریعے عملاً محصور کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا 5 اگست کا یکطرفہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ عالمی برادری کو کشمیر کے عوام کے شہری حقوق اور آزادیوں کی بحالی کے لئے بھارت پر دبائو ڈالنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدے، ثقافتی، تہذیبی اور عوامی رابطوں و مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اور تذویراتی تعاون کو عوام کے مفاد میں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو اجاگر کرنے میں ترک میڈیا کے کردار کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو بلند کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ترکی کے عوام اور حکومت کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر مسلسل حمایت پر شکر گذار ہے اور ترکی کے مفاد کے امور پر ترک حکومت اور عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 20 ستمبر 2019

Share On Whatsapp