منشیات کیس میں لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت خارج

انسداد منشیات کی عدالت نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت خارج کی

لاہور : : مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی ضمانت کی درخواست پر انسداد منشیات عدالت نے سماعت کی ۔ دوران سماعت رانا ثناءاللہ کے وکلا ء کی جانب سے ان کی ضمانت کے حق میں دلائل دیے گئے اور یہ کہا گیا کہ جو ایف آئی آر درج کی گئی تھی وہ سیاسی بنیادوں پر کی گئی جس کی وجہ سے ان کی ضمانت مظور کی جائے ۔
جبکہ سرکاری وکیل کی جانب سے اس مؤقف کے خلاف دلائل دیے گئے اور کہا گیا کہ اس کیس میں اے این ایف نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں اور رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمد ہوئی ۔ عدالت نے پانچ شریک ملزمان کی ضمانت منظور کی جبکہ رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے رانا ثنا ء اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ رانا ثنا اللہ خان کی گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی اور ان کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ جسمانی ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔14 ستمبر کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار سابق صوبائی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری جیل کی نیند عمران خان کی وزیراعظم ہاؤس کی نیند سے بہتر ہے۔
مجھے جیل کے فرش پر جس طرح نیند آتی ہے عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس میں بھی نہیں آتی ہو گی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف اس حکومت کے ساتھ کسی بھی صورت ڈیل نہیں کریں گے۔ہم پہلے بھی ان کے ساتھ تھے اب بھی ساتھ کھڑے ہیں۔جس طرح واٹس ایپ پر ایک پیغام کے ذریعے جج کو نکالا گیا اب کوئی بھی جج اس کیس کو سننے کو تیار نہیں ہے۔ کوئی بھی ایماندار جج جھوٹا مقدمہ نہیں سننا چاہتا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میری گرفتاری سے متعلق مختلف لوگوں اور سینئر صحافیوں نے پہلے سے ہی آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری چیف آف آرمی سٹاف سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں ۔حکومت کی جانب سے مجھ پر آسٹریلیا کی جائیداد ڈال دی گئی جہاں میں ساری زندگی نہیں گیا ۔اے این ایف بتائے کہ عالم ارواح میں کس کو ہیروئن فروخت کرتا تھا ۔ ان فرشتوں اور روحوں کو بھی پکڑے جن کومیں ہیروئن بیچتا تھا ۔ یہ کیس سو فیصد جھوٹا ہے اور جھوٹا ثابت ہو گا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 20 ستمبر 2019

Share On Whatsapp