دوران حراست ملزمان پر تشدد کرنے والے تفتیشی افسران نفسیاتی مریض ہیں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پولیس کی جانب سے دوران تفتیش ملزمان کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ مسترد کر دی

اسلام آباد : : حال ہی میں پولیس حراست میں صلاح الدین نامی ایک قیدی کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا جس کے بعد پولیس کے نجی ٹارچر سیلز کا بھی انکشاف ہوا تھا ۔ اس حوالے سے پنجاب پولیس پر خاصی تنقید کی گئی جس کے بعد افسران کو ہوش آئی اور ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس اہلکاروں کو ملزمان کو بے جا تشدد کا نشانہ نہ بنانے کی سختی سے ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
تاہم اب پنجاب پولیس کے اعلی حکام نے دوران حراست ملزمان پر تشدد کرنے والے تفتیشی افسران کو نفسیاتی مریض قرار دے دیا۔ اجلاس کے دوران آر پی او راولپنڈی احسن طفیل کی جانب سے پنجاب کے تھانوں میں زیر حراست ملزمان پر تشدد سے ہلاک ہونے کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔ آر پی او راولپنڈی نےکمیٹی میں بتایا کہ جن تھانوں میں تشدد سے زیر حراست ملزمان کی موت واقع ہوئی اس حوالے سے آئی جی پولیس نے اہم اقدامات اٹھائے ۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایسے تمام ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کو معطل کر دیا گیا ہے جن پر الزامات تھے کہ انہوں نے زیر تفتیش ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث تمام افسران کو تھانوں میں تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ تشدد کرنے والے اہلکاروں کی نفسیات جانچنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو تفتیشی افسران ملزمان پر تشدد میں ملوث ہوتے ہیں ان کے نفسیاتی مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے پولیس کی جانب سے دوران تفتیش ملزمان کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی تھی جسے کمیٹی نے یکسر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چونیاں واقعہ پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں آئی جی پنجاب کی عدم شرکت پر کمیٹی نے اظہار تشویش کیا تو حکام نے بتایا کہ آئی جی پنجاب چونیاں میں تین بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے پر تفتیش کیلئے گئے قصور گئے ہوئے ہیں۔ مصطفیٰ نواز نے کہا کہ ملک میں بچوں کے ساتھ مسلسل خطرناک واقعات افسوسناک ہیں ۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 19 ستمبر 2019

Share On Whatsapp