یمن کی حوثی ملیشیا نے سعودیہ کے بعد اب متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی

حوثی باغیوں کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ امارات میں موجود ان متعدد اہداف کی نشان دہی بھی کر لی گئی ہے

دُبئی : یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے گزشتہ چند مہینوں کے دوران سعودی سرزمین اور اہم تنصیبات کو درجنوں بار میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ چند روز قبل ارامکو تنصیبات پر ہونے والے میزائل حملوں کے لیے بھی حوثی ملیشیا کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ تاہم اب حوثی ملیشیا کی جانب سے تازہ ترین دھمکی سعودی عرب کو نہیں بلکہ اس کے اہم اتحادی ملک متحدہ عرب امارات کو دی گئی ہے۔
حوثی ملیشیا کے فوجی ترجمان کی جانب سےحوثیوں کے ٹیلی ویژن چینل المسیرہ پر سیری نے پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ عرب کولیشن کے حملے جاری رہنے کی صورت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر جوابی حملوں میں  اضافہ کر دیا جائے گا اور ان حملوں میں حیاتی اہمیت کی حامل اور بھی زیادہ تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات  کا دارالحکومت ابو ظہبی اور دوبئی ہمارے حملوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارےپاس اب آٹو پائلٹ ڈرونز موجود ہیں، جو جیٹ انجنوں سے لیس ہونے کے باعث سعودی عرب کے دُور دراز علاقوں میں بھی اپنے ہدف تک پہنچ کر انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ فوجی ترجمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں بھی موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ان اہداف کی نشان دہی بھی کر لی گئی ہے۔ اگرچہ حوثیوں کی جانب سے سعودی ارامکو کی دو تنصیبات پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی تاہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک سمیت امریکا نے بھی اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملے ماضی کی نسبت یمن سے نہیں کیے گئے، بلکہ ایران کی جانب سے کسی اور مقام سے کیے گئے ہیں، جن کا عنقریب پتا چلا لیا جائے گا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق بقیق اور ہجر خریص پر ایک درجن سے زائد کروز میزائل اور بیس کے قریب ڈرونز داغے گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں یہاں پر موجود تیل تنصیبات کی بھاری نقصان پہنچا تھا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 19 ستمبر 2019

Share On Whatsapp