''ایک صورت میں عمران خان کی حکومت بچ سکتی ہے اگر وہ بھارت پر حملہ کر دے''

مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد بھارت کی نظر آزاد کشمیر پر ہے۔ کالم نگار حامد میر

اسلام آباد : : پاک بھارت حالات کی کشیدگی اور مذاکرات کا امکان معدوم ہونے کے بعد سے ہی بھارت کی ہٹ دھرمی میں مزید اضافہ ہوا جس کے بعد اب بھارت نے آزاد کشمیر کو بھی میلی آنکھ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کالم نگار حامد میر نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اپنے دل و دماغ سے نکال دیجئے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد بھارت کی نظر آزاد کشمیر پر ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سبرامینم جے شنکر نے 17ستمبر کو نئی دہلی میں میڈیا سے کہا ہے کہ ’’توقع ہے پاکستانی مقبوضہ کشمیر ایک دن ہمارے زیر اختیار ہوگا۔‘‘ جے شنکر نے اپنی گفتگو میں الفاظ کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیا۔ موصوف نے کہا پاکستانی مقبوضہ کشمیر ہماری فزیکلJurisdictionمیں ہوگا۔ اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یہ کہا تھا کہ پاکستان سے مذاکرات ہوں گے تو پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر ہوں گے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ بار بار کہہ چکا ہے کہ ہم پاکستانی کشمیر کو بھارت کا حصہ بنائیں گے لیکن وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ہمارے زیرِ اختیار ہوگا۔ جب تک راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر قبضے کی بڑھکیں مارتے رہے تو بھارتی میڈیا نے بھی ان بڑھکوں پر توجہ نہیں دی لیکن جے شنکر کی طرف سے بیان سامنے آنے کے بعد ناصرف بھارتی میڈیا بلکہ عالمی سفارتی حلقوں کے کان بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔
یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی تقریروں سے صرف دس دن قبل دیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بھارت کی طرف سے ملفوف انداز میں صرف پاکستان کو جنگ کی دھمکی نہیں دی جا رہی بلکہ پوری دنیا کو ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے کہ بھارت فی الحال مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور اگر مذاکرات ہوئے تو اس علاقے پر نہیں ہوں گے جسے پاکستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کہا جاتا ہے. مذاکرات اس علاقے پر ہوں گے جسے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے کالم میں کہا یہ قبضہ پاکستان بھی کر سکتا ہے۔ جو بھی پہلے حملہ کرے گا وہ کچھ نہ کچھ علاقے پر قبضہ کر سکتا ہے کیونکہ لائن آف کنٹرول پر ہر جگہ آہنی باڑ نہیں ہے۔ کہ جو لوگ ریاستِ جموں و کشمیر کے جغرافیے سے واقف ہیں وہ اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ بھارتی فوج کے لئے مظفر آباد تک پہنچنا بہت مشکل ہے البتہ کسی حملے کے نتیجے میں چند کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر پر تقریریں تو بہت کر رہے ہیں لیکن ان کے کئی ناقدین کا خیال ہے کہ کشمیر پر بیان بازی کا اصل مقصد ملک کے معاشی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔اب ذرا اپوزیشن کے کردار کا جائزہ بھی لے لیں۔ حکومت نے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی تو اپوزیشن نے بھی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ مولانا کو یقین ہے کہ اب عمران خان کی حکومت کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ یہ کہنے کے بعد وہ کچھ رکتے ہیں، کچھ سوچتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ''ہاں ایک صورت میں عمران کی حکومت بچ سکتی ہے، وہ یہ کہ بھارت ہم پر حملہ کر دے۔''

تاریخ اشاعت : جمعرات 19 ستمبر 2019

Share On Whatsapp