مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف ایک اور انکوائری کا آغاز

چودھری شوگر مل کے بعد شمیم شوگر مل سے متعلق بھی تفتیش شروع کر دی گئی

لاہور : : مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر مل کے بعد ایک اور انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے چوہدری شوگر مل کے بعد شمیم شوگر مل سے متعلق بھی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مریم نواز سے شمیم شوگر مل کی خریداری سے متعلق سوالات کیے گیے جبکہ انہیں مل کی خریداری کا معاہدہ بھی دکھایا گیا۔
ذرائع کے مطابق دستاویزات کے مطابق شمیم شوگر مل کو ایک ارب 20 کروڑ کے عوض خریدا گیا اور یہ رقم ملزمان نے میسرز مونو گروپ کو ادا کی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے ایک مرتبہ پھر خاموشی اختیار کرتے ہوئے راہ فرار کی کوشش کی۔ مریم نواز سے پوچھا گیا کہ اس شوگر مل کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے آئی تاہم انہوں نے خاموشی اختیار کی۔
شمیم شوگر مل سے متعلق نواز شریف کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ مریم نواز پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے اپنے والد سمیت دیگر کے ساتھ مل کر شمیم شوگر مل ایک ارب بیس کروڑ میں خریدی انہوں نے چوہدری شوگر مل کے ایک کروڑ پندرہ لاکھ ستائیس ہزار کے شئیرز خریدے۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز ، شوہر محمد صفدر اور بچوں کے نام اثاثہ جات کی تفصیلات مختلف اداروں سے طلب کی جائیں گی۔
نیب نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے جس کے تحت مریم نواز کا پانامہ کے والیوم نائن میں دیا گیا تحریری جواب بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اس وقت چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب کی حراست اور جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ مریم نواز پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 16 ستمبر 2019

Share On Whatsapp