فلپائن کی عام بزرگ شہری نے کچرا صاف کرنے کے لیے معجزاتی کام کر ڈالا

ہمارے سیاستدان کراچی کا کچرا اٹھانے کی بجائے سیاست سیاست کھیل رہے ہیں

اسلام آباد ۔ :   کراچی کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔مگر گزشتہ ایک دو دہائیوں میں ہم نے کراچی کی جو حالت کی ہے اس سے کراچی کا حلیہ ہی بگڑ کر رہ گیاہے۔اگر سبھی مسائل کو ایک طرف رکھ کر دو بنیادی مسئلوں پر توجہ دی جائے تو کراچی میں صاف پانی اور کچرے سے نجات دو ایسے مسئلے ہیں کہ جس کے لیے کراچی کا ہر چھوٹا بڑا دہائیاں دیتا نظر آتا ہے۔
کراچی میں اس وقت وفاقی حکومت سے لے کر صوبائی اور پھر سٹی گورنمنٹ بھی سیاست سیاست کھیلتی نظر آتی ہیں۔اپنی اپنی سیاست چمکانے کے لیے سبھی سیاستدان نعرے مارتے اور انقلابی وعدے کرتے نظر آتے ہیں مگر زمینی حقائق ان کے سبھی وعدوں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جنہوں نے کوئی انقلابی کام کرنا ہوتا ہے تو وہ اس طرح محض وعدے نہیں کرتے بلکہ میدان میں آتے اور واقعی کچھ کر کے دکھاتے ہیں۔
کچرے کا مسئلہ صرف ہمارے کراچی میں ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کے تقریباً ہر دوسرے ملک کے کسی نا کسی شہر میں یہ مسئلہ موجود ہے۔فلپائن میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا تھا جب وہاں کی ایک شہری نے انوکھی اور زبردست چال چلی اور اپنے قصبے کو کچرے سے پاک کر دیا۔فلپائن کے دارالحکومت کے مضافات میں واقع ایک گاؤں نے پلاسٹک سے جنم لینے والے کچرے کا انوکھا حل نکال لیا۔
قصبے میں مقیم رونیلا ڈاریکو کی تحریک پر شہری کچرا چن چن کر ان تک پہنچانے لگے۔رونیلا کو قصبے میں ”انوائرمینٹل آنٹی“ کے نام سے جانا جاتا ہے، سڑک سے گزرتے ہوئے پلاسٹک شاپر  چننے کی عادت کی وجہ سے انھیں یہ عرفیت ملی۔رونیلا چاہتی تھیں کہ ان کا قصبہ پلاسٹک سے پاک ہوجائے، انھوں نے انفرادی حیثیت میں کام کیا، مگر خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی، تب انھوں نے ایک انوکھا راستہ تلاش کیا۔
رونیلا نے اعلان کر دیا کہ جو بھی ان کے پاس ایک کلو پلاسٹک لائے گا، اسے آدھا کلو چاول بدلے میں دیے جائیں گے۔اس خبر نے عوام کے لیے تحریک کا کام کیا اور لوگ شہر بھر سے پلاسٹک اکٹھا کرکے ان کے پاس لانے لگے۔پروگرام کی شہرت جلد دور دور تک پھیل گئی۔شہری گھر اور اطراف کا کچرا جمع کرکے خوشی خوشی جمع کرانے پہنچنے لگے، ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کی اس مہم کوبھرپور پذیرائی ملی اور انوائرمینٹل آنٹی اپنی مہم میں کامیاب ہو گئی۔

تاریخ اشاعت : اتوار 15 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں