ایک کپ کافی تیار ہونے میں سینکڑوں لٹر پانی استعمال ہوتا ہے

کھانے پینے کی کوئی بھی چیز ہزاروں لٹر پانی کے استعمال کے بعد ہم تک پہنچتی ہے،ریسرچ رپورٹ

اسلام آباد ۔ :   کھانے پینے کے علاوہ ہمیں کوئی چارہ نہیں۔زندہ رہنا ہے تو سانس لینے کے علاوہ کچھ نہ کچھ کھانا پینا بھی پڑتا ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ہمارے لیے اتنا کچھ رکھا ہوا ہے کہ ہمارے شکر کے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں مگر اللہ کی نعمتیں کم نہیں ہوتیں۔مگر ہم  نے کبھی یہ غوروفکر نہیں کیا کہ ان چیزوں کو تیار ہونے میں کتنی محنت لگتی یا کیا کچھ استعمال ہوتا ہے۔
اگر کافی کی مثال ہی لے لیں جو اکثر حضرات بڑے شوق سے پیتے ہیں مگر انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ ایک کپ کافی تیار ہونے میں کتنا پانی شامل ہوتا ہے؟ شاید آپ کہیں کہ ایک کپ، لیکن درحقیقت آپ کی ایک کپ کافی میں 140 لیٹر پانی شامل ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق ایک کپ کافی میں استعمال ہونے والے بیجوں کو اگانے، تیار کرنے اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے 140 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔
درحقیقت زراعت پانی استعمال کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ زمین پر موجود صاف پانی کا 70 فیصد حصہ زراعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا آپ کے سامنے رکھی کھانے پینے کی کوئی بھی شے کئی سو لیٹر پانی سے اگائی گئی۔جب ہم کوئی کھانے پینے کی شے پھینکتے یا ضائع کرتے ہیں تو اس سے کئی سو لیٹر پانی کو بھی ضائع کرتے ہیں جو کسی بھی طرح ایک احسن عمل نہیں ہے۔
صرف کافی ہی نہیں ہر خوردنی شے بے تحاشہ پانی کے استعمال کے بعد اس حالت میں ہمارے سامنے ہوتی ہے کہ اسے کھایا جاسکے۔ جیسے گائے کا ایک کلو گوشت 15 ہزار 415 لیٹر پانی کے استعمال کے بعد حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح ایک سیب 70 لیٹر پانی کے استعمال کے بعد تیار ہوتا ہے۔پانی کا اس قدر استعمال کرنے میں زراعت واحد شعبہ نہیں، فیشن انڈسٹری بھی کچھ اسی طرح پانی استعمال کرتی ہے۔
فیشن کی صنعت ایک سال میں اتنا پانی استعمال کرتی ہے کہ اس سے اولمپک سائز کے 3 کروڑ 20 لاکھ سوئمنگ پولز بھرے جا سکتے ہیں۔آپ کے روزمرہ استعمال کی ایک سادی ٹی شرٹ بنانے میں 2 ہزار 720 لیٹر جبکہ ایک جینز بنانے میں 10 ہزار لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق پانی بچانے اور ماحول دوست بننے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف اشیا کو کم سے کم خریدا جائے اور پھینکنے کے بجائے کسی اور طرح استعمال کیا جائے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 15 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں