معجزے رونما ہوتے ہیں، یقین نہیں آتا تو میری زندگی دیکھ لیں

اسکول میں صفائی کرنے والی خاتون اسی ادارے کی پرنسپل بن گئی

لاہور۔ :   محنت کرنے سے کیا نہیں ہو سکتا۔ویسے بھی ہر شخص کی قسمت اس کے اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور اگر وہ محنت کرے تو کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔ہر انسان کی زندگی معجزوں سے بھری پڑی ہے، بعض اوقات زندگی میں ایسے ایسے معجزے رونما ہوتے ہیں جو کسی انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔امریکی خاتون پام ٹلبرٹ کی زندگی بھی ایسا ہی ایک معجزہ لگتی ہے تاہم یہ معجزہ انہوں نے اپنی انتھک محنت، لگن اور جذبے سے کیا۔
امریکی ریاست لوزیانا کی یہ خاتون آج اس اسکول میں بطور اسسٹنٹ پرنسپل کام کر رہی ہیں جہاں کبھی وہ خاکروب کی ملازمت کیا کرتی تھیں۔پام نے لوزیانا کے ایک اسکول میں صفائی کرنے اور بس ڈرائیور کی ذمہ داری نبھائی، یہی نہیں وہ ایک مرض کی وجہ سے لکھنے اور پڑھنے میں بھی مشکلات کا شکار تھیں۔وہ بتاتی ہیں کہ بعض وفعہ وہ کوئی معمولی سا لفظ بھی نہیں پڑھ پاتی تھیں جس کے بعد وہ فرسٹریشن کا شکار ہو کر کئی گھنٹوں تک روتی رہتی تھیں۔
پام نے اپنی تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی تھی۔ جب ان کے یہاں بچوں کی پیدائش ہوئی تو پام نے بچوں کی کتابوں کے ذریعے پھر سے لکھنے پڑھنے سے اپنا رشتہ جوڑا۔انہی کتابوں کی وجہ سے وہ پھر سے پڑھنے کی جانب مائل ہوئیں اور اپنی تعلیم کا ادھورا سلسہ دوبارہ جوڑا۔ جلد ہی لوزیانا کی سدرن یونیورسٹی سے انہوں نے بیچلرز اور پھر ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی۔
پھر اسی ادارے سے انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ پی ایچ ڈی بھی کرلیا۔پام اب اسی اسکول کی اسسٹنٹ پرنسپل بن چکی ہیں جہاں کبھی وہ صفائی کی ملازمت کیا کرتی تھیں۔ وہ اپنی زندگی کے بارے میں کہتی ہیں، ’معجزے رونما ہوتے ہیں، یقین نہیں آتا تو میری زندگی دیکھ لیں جو کسی معجزے سے کم نہیں‘۔وہ اپنے بچوں کی بھی بے حد شکر گزار ہیں جن کے حوصلہ دلانے کی وجہ سے ہی وہ آج اس مقام پر ہیں۔وہ کہتی ہیں ’میرے بچے میرے استاد ہیں، اگر وہ مجھے ہمت نہ دیتے تو میں آج یہاں نہ ہوتی‘۔

تاریخ اشاعت : اتوار 15 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں