Man Spends Tens Of Thousands Of Dollars Fighting $120 Speeding Fine, Still Loses

120 ڈالر کا جرمانہ بچانے کے لیے ایک شخص نے 37 ہزار ڈالر قانونی جنگ پر خرچ کر دئیے

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک 71 سالہ شخص نے تیز رفتاری  کے چالان کے 100 پاؤنڈ بچانے کے لیے 30 ہزار پاؤنڈ خرچ کر دئیے۔بدقسمتی سے  اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی وہ اپنا مقدمہ ہار گئے۔
ریٹائرڈ انجینئر رچرڈ کیڈویل  کی مشکلات کا آغاز نومبر 2016 میں ہوا۔ وردچیسٹر کے علاقے میں 30 میل فی گھنٹہ کی حد رفتار کے علاقے میں 35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر اُن کا چالان ہوا۔


اُن کا خیال تھا کہ انہوں نے حد رفتار کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے  ویڈیو اور الیکٹرونکس کے ماہر کی خدمات حاصل کیں تاکہ ثابت کر سکیں  کہ پولیس کا سپیڈنگ کیمرہ خراب ہے۔ یہیں سے اُن کی طویل اور مہنگی قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔
اس قانونی جنگ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ 100 پاؤنڈ کے جرمانے کو بچانے کے لیے  انہوں نے 30 ہزار پاونڈ خرچ کر دئیے۔
اس میں 21 ہزار ڈالر  وکلاء کی فیس اور 7 ہزار پاؤنڈ عدالتی اور سفری  اخراجات تھے۔رچرڈ کا خیال تھا کہ اس کیس کا فیصلہ بہت جلد ہوگا لیکن یہ اس کی توقعات سے  بھی زیادہ سست رفتاری سےہوا۔
اس کیس میں  رچرڈ کے ماہرین  عدالت کو بتایا کہ  سپیڈ کیمرہ  خراب ہو سکتا ہے اور اس نے دوسری قطار  جانے والی کار کی رفتار بتائی ہو۔لیکن جج نے ان باتوں کو تسلیم نہیں کیا۔
عدالتی  پیشیاں  بڑھنے کے باعث رچرڈ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگیا۔
رچرڈ نے بتایا کہ    انہیں رقم کے ضیاع پر افسوس ہے، وہ صرف انصاف چاہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ خرچ ہونے والی رقم  انہیں وراثت میں ملی تھی، جسے وہ اپنے بیٹوں کے لیے چھوڑنے کا منصوبہ بنائے  تھے۔حیرت انگیز طور پر رچرڈ اب بھی  مقدمے کے فیصلے کےخلاف اپیل کا سوچ رہے  ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں