لندن پولیس نے الطاف حسین کو پھر طلب کر لیا

نئے شواہد ملنے پر لندن پولیس نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو دوبارہ طلب کیا

لندن : نئے شواہد ملنے پر لندن پولیس نے الطاف حسین کو پھر طلب کر لیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں لندن پولیس نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو ایک بار پھر طلب کر لیا ہے۔الطاف حسین پولیس کو انٹرویو دینے وسطی لندن کے پولیس اسٹیشن پہنچ گئے ہیں۔یاد رہے کہ بانی ایم کیو ایم کو اس سے قبل نفرت انگیز تقاریر کرنے کے جرم میں 11 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔
چھاپے میں 15 کے قریب پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔اسکاٹ لیںڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو لندن میں ان کے گھر سے گرفتار کرلیا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔ برطانوی پولیس نے بانی ایم کیو ایم سے دو گھنٹے تک تفتیش کی۔بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے مقامی وقت کے مطابق دس سے بارہ بجے تک تفتیش کی گئی۔ ۔ تفتیش کے دوران الطاف حسین نے صرف اپنا نام ، تاریخ پیدائش اور گھر کا پتہ بتایا ۔
بانی ایم کیو ایم نے برطانوی پولیس کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا جس پر برطانوی پولیس نے انہیں بتایا کہ آپ کے پاس ''نو کمنٹس'' کہنے کا آپشن موجود ہے۔ لیکن نوکمنٹس کہنا عدالت میں آپ کے خلاف جا سکتا ہے۔ تاہم بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکیل نے انہیں ''نو کمنٹس'' کہنے کا ہی مشورہ دیا تھا۔بعد ازاں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی تھی۔
یہ درخواست ایم کیو ایم کے وکلا نے دائر کی تھی۔ الطاف حسین کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔لندن پولیس کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔بانی ایم کیو ایم پر فرد جُرم عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن الطاف حسین پر کوئی فرد جُرم عائد نہیں کی گئی۔کراؤن پراسیکیوشن سروس نے بانی ایم کیو ایم کو چارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp