سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا وزیر دفاع کی غیر موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار

ملک نہایت حساس وقت سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں وزیردفاع کی غیر سنجیدگی سوالیہ ہے، رحمن ملک

اسلام آباد : سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے وزیر دفاع کی غیر موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نہایت حساس وقت سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں وزیردفاع کی غیر سنجیدگی سوالیہ ہے۔ جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں سینیٹر رحمان ملک نے وفاقی وزیردفاع کے غیر موجودگی پر سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگر وزیردفاع کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آتے تو اجلاس کی بائیکاٹ کرینگے۔
انہوںنے کہاکہ نہایت اہم موضوع پر اجلاس ہے اور وزیردفاع کو اجلاس میں ہونا چاہئے تھا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ حکومت کو کشمیر جیسے اہم موضوع پر اجلاس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ملک نہایت حساس وقت سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں وزیردفاع کی غیر سنجیدگی سوالیہ ہے۔انہوںنے کہاکہ امریکہ کے سابق صدر ابامہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان ایران سے زیادہ خطرناک ہے۔
انہوںنے کہاکہ چیئرمین کمیٹی وزیردفاع کو کمیٹی کی ناراضگی و احتجاج کا پیغام پہنچا دیں۔اجلاس کے دور ان کمیٹی کے سامنے سینیٹر رحمان ملک کی کتاب پیش کی گئی ۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے کشمیر ایشو پر سینیٹر رحمان ملک کی کوششوں اور کاوشوں کو سراہا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ سینیٹر رحمان ملک نے ہر فورم پر مودی کی مظالم سے پردہ اٹھایا۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ قوم کو سینیٹر رحمان ملک کا کشمیر ایشو اور مودی مظالم کو اجاگر کرنے پر مشکور ہونا چاہئے۔ سینیٹر ولید اقبال نے کہاکہ سینیٹر رحمان ملک نے الیکشن سے پہلے مودی پر کتاب لکھ کر بتایا تھا کہ مودی کیا کرنے جا رہے ہیں۔ رحمن ملک نے کہاکہ دنیا کی ہر فورم پر کشمیر پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرکے مودی کا اصل چہرہ دیکھاتا رہونگا۔
انہوںنے کہاکہ مودی دنیا کا واحد وزیراعظم ہے جو دھشتگرد تنظیم آر ایس ایس کا ممبر ہے۔ انہوںنے کہاکہ مودی 1971 سے پاکستان کا دشمن ہے اورسازشیں کررہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مودی جنگی مجرم ہے اور ہماری حکومت انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں جانا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کے رپورٹ نے مودی کی جنگی جرائم بیان کئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1989 سے 2018 تک 94644 کشمیری قتل کئے گئے۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی افواج نے 11,042 عورتوں کی گینگ ریپ اور ہزاروں جوانوں کو بینائی سے محروم کیا گیا،میں کشمیریوں کے ساتھ ملکر آئی سی سی میں مودی کیخلاف جاؤنگا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp