پاکستانی ڈاکٹرز نے لائن آف کنٹرول کے قریب اسپتال بنانے کا اعلان کر دیا

پاکستانی ڈاکٹرز کے وفد نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر دورے کے بعد یہ فیصلہ کیا

لاہور : : پاکستانی ڈاکٹرز نے لائن آف کنٹرول پر اسپتال بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی ڈاکٹرز کے وفد نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ڈاکٹرز کے وفد میں شامل پروفیسر جاوید اکرم نےلائن آف کنٹرول کے قریب اسپتال بنانے کا اعلان کیا۔ پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ہم لائن آف کنٹرول کے قریب فوج کے تعاون سے اسپتال بنانے جا رہے ہیں، مستقبل میں بہت کشمیریوں کی بڑی تعداد آزاد کشمیر آنے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ اور بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری سے مقامی آبادی کونقصان پہنچ رہا ہے۔لائن آف کنٹرول پرزخمی ہونے والوں کے لئے اسپتال کی بہت ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس اسپتال میں 11 ،11 ڈاکٹرز پر مشتمل 3 شفٹیں بنائی جائیں گی۔ پروفیسر جاوید اکرم نے مزید بتایا کہ لائن آف کنٹرول پرایک چھوٹا سا اسپتال ہے جو مقامی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔
نئے بنائے جانے والے اسپتال میں سرجری اور مختلف نوعیت کے آپریشنز سمیت دیگر بڑی سہولیات موجود ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب اسپتال بنانے کے لیے ہم جگہ دیکھ آئے ہیں۔ جلد ہی اس منصوبے پر کام بھی شروع کر دیا جائے گا تاکہ کشمیری عوام بروقت طبی سہولیات حاصل کر سکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی ڈاکٹرز نے کشمیریوں کے علاج کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
پاکستانی ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ ہم مظلوم کشمیریوں کی مدد اور علاج کے لیے مقبوضہ کشمیر جانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر جاوید اکرم نے کہا تھا کہ بھارت ڈاکٹرز کی ٹیم کو کشمیریوں کو علاج معالجہ کرنے دے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی پاکستانی ڈاکٹرز کے کشمیریوں کے علاج کے لیے مقبوضہ کشمیر جانے کے اعلان کو مثبت اقدام قرار دیا تھا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp