پاکستان افریقہ کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لئے’’افریقہ پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے،

پاکستان ٹریکٹرز کو موزمبیق، تنزانیہ کے بعد اب انگولا کو بھی برآمد کرے گا , وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی ایتھوپیا کے تجارتی وفد سے گفتگو

اسلام آباد : وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان افریقہ کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لئے’’افریقہ پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے، ایتھوپیا اس حوالے سے بہت اہم ملک ہے، پاکستان چاول، ٹیکسٹائل اور چمڑے کے علاوہ اب انجینیئرنگ کے شعبے سے بھی برآمدات کررہا ہے، پاکستان ٹریکٹرز کو موزمبیق، تنزانیہ کے بعد اب انگولا کو بھی برآمد کرے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایتھوپیا کے تجارتی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ایتھوپیا کے وفد میں اسٹیٹ منسٹر برائے خارجہ مارکوس ٹیکلے، اسٹیٹ منسٹر برائے تجارت و صنعت مسگانو آریگا شامل تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا، وزارت تجارت، وزارت خارجہ کے اعلی حکام بھی شریک تھے۔ ملاقات میں مشیر تجارت رزاق داؤد نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان افریقہ کے جانب تجارت کو بڑھانے کے لئے’’افریقہ پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے۔
ایتھوپیا اس حوالے سے بہت اہم ملک ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے چاول، ٹیکسٹائل اور چمڑے کے علاوہ اب انجینیئرنگ کے شعبے سے بھی برآمدات کررہا ہے۔ پاکستانی ٹریکٹرز کو موزمبیق، تنزانیہ کے بعد اب انگولا بھی برآمد کرے گا۔ مشیر تجارت رزاق داؤد نے کہا کہ ادیس ابابا میں کمرشل سیکشن کا قیام کر کے افریقہ میں تجارت کو فروغ دیں گے۔ رواں سال نومبر میں پاکستان نیروبی میں کانفرنس کا انعقاد کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیروبی کانفرنس میں افریقی ممالک کو مدعو کریں گے۔ اس موقع پر ایتھوپیا کے وفد میں شامل مارکوس ٹیکلے نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وفد میں شامل منسٹر برائے تجارت و صنعت مسگانو آریگا نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین کاروباری افراد کے مابین روابط بڑھانے کے لئے ٹریڈ سیمنارز، صنعتی اشیاء کی نمائش اور کاروباری وفود کا تبادلہ کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کار ایتھوپیا میں ٹیکسٹائل گارمینٹ اور مینوفیکچرنگ شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp