مسلم لیگ ن مریم نواز کی گرفتاری کے بعد متحرک سیاسی قیادت لانے میں ناکام ہو گئی

مریم نوازکی گرفتاری کے بعد حکومت مخالف سیاسی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو گئیں

لاہور : : سابق وزیراعظم نواز شریف کی گرفتاری کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز نے پارٹی کو سنبھالا اور اپنے والد کے جارحانہ بیانیے کو لے کر آگے چلیں جس میں کئی پارٹی رہنماؤں نے مریم نواز کا ساتھ دیا۔ لیکن مریم نواز کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن کا بیانیہ کہیں کھو کررہ گیا ہے جبکہ قیادت کے فقدان کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی سیاسی سرگرمیاں بھی رُک گئی ہیں۔
مریم نواز نے اعلان کیا تھا کہ اگر ہمیں گرفتار کریں گے تو دوسرے تیسرے درجے کی قیادت آجائے گی جو حکومت مخالف آواز اُٹھائے گی لیکن مریم نوازکی گرفتاری کے بعد حکومت مخالف سیاسی سرگرمیاں جمود کا شکار ہوگئیں۔ مریم نواز کی حکمت عملی تھی کہ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے صاحبزادے جنید صفدر عوامی رابطہ مہم چلائیں گے اور نواز شریف کے بیانیہ کو لے کر آگے چلیں گے ، اس سلسلے میں مظفرآباد میں جلسے کی قیادت جنید صفدر کو ہی کرنا تھی لیکن یہ حکمت عملی بھی دھری کی دھری رہ گئی اورشہباز شریف کی سرگرمیاں صرف ماڈل ٹاؤن جبکہ سیکرٹری جنر ل احسن اقبال ،مریم اورنگزیب اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
مسلم لیگ ن کی کی مرکزی قیادت کی گرفتاریوں کے بعد گرفتاریوں سے محفوظ رہنے والی قیادت اپنے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک نہیں کر پارہی۔ احسن اقبال نے لاہور میں اجلاس کی صدارت تو کی لیکن اس کے نتائج سامنے نہیں آسکے ۔ لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں بھی ابھی تک مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نے عملی شرکت کی یقین دہانی نہیں کروائی ۔ ذرائع نے بتایا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے ذریعہ نوازشریف کے پیغام پرمولانا فضل الرحمن نے شکریہ ادا تو کیا لیکن ان کے مسلم لیگ ن کے کردار پر تحفظات تاحال برقرار ہیں۔ ان میں رائے پائی جارہی ہے کہ مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی کسی مبینہ ڈیل کے انتظار میں ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp