سیاستدان بات چیت کے لیے کبھی اپنے دروازے بند نہیں کرتا

نواز شریف کی جانب سے اگر ڈیل پر بات چیت ہو گی تو اصول کو قائم رکھ کر ہو گی۔ سینیٹر مشاہد اللہ

اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ سیاستدان بات چیت کے لیے کبھی اپنے دروازے بند نہیں کرتا۔سیاست میں بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوتے،میاں صاحب نے جیلیں کاٹ لیں، وزارت عظمیٰ دے دی، بیوی کھو دی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھلا کون سی ڈیل ہو سکتی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے اگر ڈیل پر بات چیت ہو گی تو اصول کو قائم رکھ کر ہو گی۔
اصولوں کو توڑ کر نہیں ہو گی۔میاں صاحب کے لیے ڈیل کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔مشاہد اللہ نے مزید کہا اب ڈیل کرنا ان لوگوں کی مجبوری بن گئی ہے کیونکہ ان سے پبلک کا پریشر برداشت نہیں ہو رہا۔نواز شریف اور ان کی جماعت ووٹ کو عزت دو کے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے،سابق وزیراعظم کے نظریے سے دنیا کو پیغام گیا ہے کہ 2018 کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا۔مشاہد اللہ نے مزید کہا کی نواز شریف کو جیل میں ڈالنے والے نے خود کہہ دیا کہ میں نے غلط کیا۔
اس کے بعد بات ختم ہو جاتی ہے۔ڈیل میاں صاحب کی خواہش نہیں۔دیکھنا یہ ہے اب یہ کس کی خواہش ہے۔شہباز شریف کی اکثر معاملات پر رائے مختلف رہی لیکن وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں ابھی بھی شہباز کی رائے مختلف ہو تو نواز شریف کی رائے ہی مقدم ہو گی۔دوسری جانب وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر)اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف نیب کے قیدی ہیں، پلی بارگین بھی ان سے ہی ہوگی۔
دوسری جناب سینئیر صحافی عارف نظامی نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران کان سے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ نوازشریف کا جو تعلق رہا اس میں پیسوں کا لیں دین ہمیں کبھی نظر نہیں آیا۔ سینئیر صحافی نے بتایا کہ ترک صدر نےوزیراعظم عمران کان اور اسٹیبلشمنٹ سے سفارش کی ہے کہ میاں نواز شریف کو رہا کر دیں تاہم وزیراعظم کا اس حوالے سے کیا جواب تھا یہ معلوم نہیں.

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp