مولانا فضل الرحمان نے اپنی گرفتاری کی صورت میں جے یو آئی ف کی متبادل قیادت تیار کر لی

اسلام آباد لاک ڈاون سے قبل گرفتار کیے جانے کی صورت میں سابق ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری اور مولانا عطاء الرحمان اپنی پارٹی کی قیادت کریں گے

اسلام آباد : مولانا فضل الرحمان نے اپنی گرفتاری کی صورت میں جے یو آئی ف کی متبادل قیادت تیار کر لی، اسلام آباد لاک ڈاون سے قبل گرفتار کیے جانے کی صورت میں سابق ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری اور مولانا عطاء الرحمان اپنی پارٹی کی قیادت کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ گرفتار کیے جا سکتے ہیں۔
اس بات کا مولانا فضل الرحمان کو اظہار بھی کر چکے ہیں۔ عارف نظامی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد مارچ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی گرفتاری کی صورت میں متبادل قیادت کو بھی تیار کر لیا ہے۔ عارف نظامی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے سابق ڈپٹی چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری اور اپنے بھائی مولانا عطاء الرحمان کو ان کی گرفتاری کی صورت میں جے یو آئی ف کی قیادت سنبھالنے کی تلقین کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام ف کے اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے اکتوبر میں حکومت گرانے کیلئے وفاقی دارالحکومت کے لاک ڈاؤن کا اعلان کررکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی اس دھرنے میں شریک ہوں۔
لیکن اب پیپلزپارٹی نے اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جامشورو میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے خود پہل کی اور اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم پیپلزپارٹی پہلے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی اور اب دھرنا سیاست سے خود کو دور رکھے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں تو شریک نہیں ہوں گے، تاہم وہ خود سے حکومت کیخلاف ملک بھر میں دورے کریں گے، جلسوں کا انعقاد کریں گے۔ وہ بھرپور انداز میں تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف آواز بلند کریں گے۔ یہاں واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کو مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی حمایت نہ ملنے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے پارٹی کو مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے کی تلقین کی ہے، تاہم شہباز شریف حکومت کیخلاف کسی دھرنے کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp