تھپڑ مارے گئے، کہا گیا وکیلوں سے پنگے کا انجام نہیں جانتیں: لیڈی کانسٹیبل فائزہ

ہتھکڑی لگا کر وکیل کو عدالت میں پیش کیا تو وکلا نے غصہ نکالا، وکلا کا دباؤ دیکھ کر پولیس والے بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہے، کردار کشی کی جارہی ہے لیکن ابھی استعفیٰ نہیں دیا: لیڈی کانسٹیبل کی پریس کانفرنس

لاہور : وکیل کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائی جانے والی لیڈی کانسٹیبل فائزہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تھپڑ مارے گئےاور کہا گیا وکیلوں سے پنگے کا انجام نہیں جانتیں۔ فائزہ نے بتایا ہے کہ ہتھکڑی لگا کر وکیل کو عدالت میں پیش کیا تو وکلا نے غصہ نکالا، وکلا کا دباؤ دیکھ کر پولیس والے بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہے۔ فائزہ نے کہا ہے کہ کردار کشی کی جارہی ہے لیکن ابھی استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
کانسٹیبل فائزہ نے کہا کہ وہ یونیفارم میں تھی جب اس پر حملہ کیا گیا، کوئی بھی لڑکی عزت نفس پر حملہ برداشت نہیں کرے گی، اعلیٰ افسران مدد کریں۔ لیڈی کانسٹیبل لاہور میں تحریک انصاف کی خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ پریس کانفرنس کررہی تھیں، فائزہ نے خود کو ملنے والی دھمکیوں سے بھی میڈیا کو آگاہ کیا۔ ڈی پی او شیخوپورہ نے لیڈی کانسٹیبل فائزہ کا تبادلہ کر دیا ہے۔
فائزہ اب ایس ایس پی آف میں تعینات ہوں گی جہاں انہیں بہتر مراعات ملنے کا امکان ہے۔ اس سے قبل لیڈی کانسٹیبل نے پولیس کو دئیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وکلا کی جانب سے ذہنی طور پر ٹارچر کیا جا رہا ہے،مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہاں جاؤں۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لیڈی کانسٹیبل فائزہ پولیس کو بیان دینے کے بعد گھر کو تالے لگا کر غائب ہو گئی۔
خیال رہے کہ تھپڑ مارنے والے وکیل کے بری ہونے پر خاتون پولیس اہلکار برس پڑی تھی۔ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون پولیس اہلکار نے سوال کیا کہ کیا یہی ہے عورت کی عزت کہ کوئی بھی اسے سرعام تھپڑ مار کر چلا جائے؟ خاتون اہلکار نے چیف جسٹس پاکستان اور صدر مملکت سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ خاتون کانسٹیبل نے کہا کہ جب انہوں نے درخواست جمع کروائی تو سب انسپکٹر نے ایف آر درج کرتے ہوئے ایک جگہ احمد مختار کی احمد افتخار نام لکھ دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شک کی بنیاد پر ایف آئی آر ختم کردی گئی اور ملزم احمد مختار کو بری کردیا گیا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp