وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جنیوا کا تین روزہ کامیاب دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہو گئے

. , وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کی، نہتے کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا , سول سوسائٹی ، ہیومن رائٹس کی تنظیموں، اقوام متحدہ کے مندوبین، او آئی سی کے حکام اور اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کمشنر کے ساتھ بہت مفید روابط رہے، مشترکہ اعلامیہ انتہائی حوصلہ افزا ہے، سول سوسائٹی، این جی اوز اور بین الاقوامی میڈیا آج ہندوستان کے رویے پر سوال اٹھا رہا ہے اور ہندوستان کو جواب دینے میں دقت پیش آ رہی ہے، ان سے جواب بن نہیں پا رہا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پاکستانی میڈیا سے گفتگو

جنیوا۔ : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جنیوا کا تین روزہ کامیاب دورہ مکمل کرکے بدھ کو واپس وطن روانہ ہو گئے۔ جنیوا میں تعینات وزیر اعظم کی نمائندہ خصوصی ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ، سویٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر احمد وڑائچ، اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب طاہر حسین اندرابی اور پاکستانی سفارتخانے کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کو ایئر پورٹ پرالوداع کیا۔
وزیر خارجہ نے جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور اپنے خطاب میں بھرپور انداز میں نہتے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا۔جنیوا میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اٹھاون ممالک کی حمایت سے مشترکہ اعلامیہ کا آنا بھی پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ روانگی سے قبل انہوں نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول سوسائٹی ، ہیومن رائٹس کی تنظیموں، اقوام متحدہ کے مندوبین، او آئی سی کے حکام اور اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کمشنر کے ساتھ بہت مفید روابط رہے اور کل جو مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے وہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے یہاں سول سوسائٹی، این جی اوز اور بین الاقوامی میڈیا میں جو ماحول دیکھا ہے وہ بہت مثبت ہے ،آج وہ ہندوستان کے رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ہندوستان کو جواب دینے میں دقت پیش آ رہی ہے ان سے جواب بن نہیں پا رہا۔آج گیارہ ستمبر ہے ہم نے تو یکم اگست کو اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔ میں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، صدر سیکورٹی کونسل، صدر جنرل اسمبلی کو خطوط لکھ کر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp