حکومت کی فضل الرحمان کامارچ رکوانے کی کوششیں

معاملات میرے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ حکومت کو جے یو آئی (ف) کے سینئیر رہنما کا جواب

اسلام آباد : : ) جمعیت علماء اسلام (ف)کی جانب سے اکتوبر میں اسلام آباد میں آزادی مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب حکومت بھی فضل الرحمان کامارچ رکوانے کی کوششیں کر رہی ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے جے یو آئی ایف کی قیادت سے رابطہ کیا ہے۔میاں محمد سومرو نے راشد محمود سومرو سے لاڑکانہ میں ملاقات کی ہے۔
تاہم راشد سومرو نے حکومت کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات میرے ہاتھ میں نہیں ہیں۔دوسری جانب اکتوبر میں اسلام آباد میں آزادی مارچ سے قبل مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد مارچ کی قیادت کیلئے ناموں پر غور شروع کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد قیادت کیلئے پارٹی کے اہم رہنمائوں کے نام سامنے آگئے،مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری کے بعد کمانڈ کیلئے مولانا عبدالغفور حیدری کا نام سر فہرست ہے ، اکرم خان درانی، مولانا عطاء الرحمن، علامہ راشد خالد سومرو ، مولانا اسعد محمود کا نام زیر غور ہے ۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری یا نظر بند ہونے کی صورت میں فرسٹ، سیکنڈ، تھرڈ نام مارچ کو کمانڈ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ گرفتاری ہو یا نظر بندی ،کسی بھی صورت میں آزادی مارچ ملتوی نہیں ہوگا۔جب کہ مولانا فضل الرحمن نے اکتوبر میں اسلام آباد لاک ڈاؤن دھرنے کے لیے سیاسی رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور اے این پی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو حکومت مخالف دھرنے میں شرکت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے شیر پاؤ سے ملاقات کی جب کہ اسفند یار ولی سے رابطہ کیا۔ محرم الحرام کے بعد بلاول بھٹو، محمود اچکزئی،سراج الحق اور حاصل بزنجو کے ساتھ رابطہ کا فیصلہ کیا ہے۔جب کہ نواز شریف پہلے ہی دھرنے کی حمایت کا پیغام دے چکے ہیں۔دھرنے کا اعلان کرنے کے لیے 18 اکتوبر کو مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔19 اکتوبر کو مظفر آباد میں جلسہ ہو گا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp