بھارت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وہاں آبادیاتی تناسب بھی تبدیل کرنا چاہتا ہے،

ہم امن کے خواہاں لیکن جوہری ملک بھارت کی شر انگیزیوں کا سامنا ہے , علاقائی سلامتی کے درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان کثیر الجہتی طرزِ فکر پر عمل پیرا ہے , وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جینوا میں سینٹر فار سیکورٹی پالیسی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اب وہاں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے،ہم امن چاہتے ہیں لیکن مشرق میں ہمیں توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے ایٹمی ملک بھارت کی شر انگیزیوں کا سامنا ہے، علاقائی سلامتی کے درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان کثیر الجہتی طرزِ فکر پر عمل پیرا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو جینوا میں بین الاقوامی شہرت کے حامل تھنک ٹینک جنیوا سینٹر فار سیکورٹی پالیسی میں" ہماری خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کی جہتیں" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں ہماری منفرد جغرافیائی حیثیت کا بہت عمل دخل ہے، اگرچہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن مشرق میں ہمیں توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے ایٹمی ملک بھارت کی شر انگیزیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جبرآً مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا اور اب وہاں آبادیاتی تناسب کو بھی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کا انسانی حقوق کونسل اجلاس میں شرکت کا مقصد دنیا کو بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنا ہے اور یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے بلکہ اسوقت یورپی پارلیمنٹ، برطانوی پارلیمنٹ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے موقر ادارے ان مظالم پر آواز اٹھا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے درپیش چیلنجز کے باوجود پاکستان کثیر الجہتی طرزِ فکر پر عمل پیرا ہے، بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اندرونی استحکام اور معیشت کی بہتری ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp