مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ،

ذرائع مواصلات پر پابندی کی وجہ سے حقائق سامنے نہیں آرہے، اس سلسلے میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کردار قابل تعریف ہے، یورپی یونین کے بہت سے ممالک اس صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں , پاکستان اور بھارت کے مابین تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت ہی واحد آپشن ہے، ملٹری آپشن افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے , وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جینوا میں سوئیس ٹی وی کو انٹرویو

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے کئی ممالک مقبوضہ کشمیر صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں لیکن اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر آواز نہیں اٹھا رہے،پاکستان اور بھارت کے مابین تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت ہی واحد آپشن ہے۔ ملٹری آپشن افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔بدھ کو جینوا میں سوئیس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ ذرائع مواصلات پر پابندی کی وجہ سے حقائق سامنے نہیں آرہے،لیکن اس سلسلے میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کردار قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے یورپی یونین کے ممالک اس صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں لیکن اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر آواز نہیں اٹھا رہے۔ہندوستان نے پانچ اگست کو جو اقدام اٹھائے وہ سب کے لیے حیران کن تھے کیونکہ بھارت میں لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا یہ ان کے اپنے قوانین کے منافی تھے اقوام متحدہ کے چارٹر، سیکورٹی کونسل کی قرارداروں اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف تھے، ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی، انڈین سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں۔
ہندوستان کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرارداروں پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان فوری طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سے کرفیو اٹھانے لوگوں کو جینے کا حق دے، ان کے بچے سکول نہیں جا پا رہے، مریضوں کو طبی سہولیات میسر نہیں ہو رہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکومت جب اقتدار میں آئی تو ہم نے ہندوستان کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن ہندوستان نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔
ہندوستان کی موجودہ حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ان حالات میں مجھے مستقبل قریب میں دو طرفہ مذاکرات کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی کیونکہ ہندوستان بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت ہی واحد آپشن ہے۔مجھے پتہ چلا ہے کہ سوس حکام نے ہندوستان کے رہنماؤں کے ساتھ متوقع ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔
افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان کا مذاکرات کی میز پر آنا، القاعدہ اور آئی ایس ایس سے لاتعلقی کا اظہار کرنا، طالبان کا یہ عندیہ دینا کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ یا ان کے اتحادیوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال نہیں ہو گی یہ ساری مثبت پیش رفت ہیں میرے خیال میں ان مذاکرات کو بحال ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح انٹرا افغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی، افغانستان میں امن و استحکام کی امید پیدا ہو گی اور یہ مذاکرات یقیناً آسان نہیں ہوں گے لیکن مذاکرات کو موقع ملنا چاہئے۔
طالبان اپنا ذہن اور سوچ رکھتے ہیں ہم نے خطے میں قیام امن کے لئے اپنا مصالحانہ کردار ادا کیا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملٹری آپشن افغانستان کے مسلے کا حل نہیں ہے اور امریکہ نے بھی ہماری بات سے اتفاق کیا اسی وجہ سے ساری پیش رفت ہوئی اور مذاکرات شروع ہوئے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp