جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بھجوائے گئے صدارتی ریفرنسز پر کارروائی روک دی گئی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے عدالتی سال کی تقریب کے دوران یہ اہم بات بتا دی

اسلام آباد : چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بتایا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بھجوائے گئے صدارتی ریفرنسز پر سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی روک دی ہے، کارروائی اسی معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی درخواستیں دائر کرنے کے سبب روکی گئی۔چیف جسٹس نے یہ انکشاف نئے عدالتی سال کی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین صدر کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے‘ سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کر سکتی. صدر کی کسی جج کے خلاف شکایت جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی، دوسری جانب کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے‘انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سپریم جوڈیشل کونسل میں نجی درخواستوں کی تعداد 56 تھی، گزشتہ سال کونسل میں 102 شکایات کا اندراج ہوا عدالتی سال میں کونسل میں 149 شکایات نمٹائی گئیں.اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 9 شکایات زیر التوا ہیں۔
9 شکایات میں صدر مملکت کی جانب سے دائر 2 ریفرنس بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صدر کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کر رہی ہے. سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ارکان اور چیئرمین اپنے حلف پر قائم ہیں کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر کام جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی توقع نہ رکھی جائے۔
اس موقع پر چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیوزم میں دلچسپی نہ لینے پرخوش نہیں، معاشرے کا وہی طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیوزم پر تنقید کرتا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ ازخودنوٹس پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے. چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جوڈیشل ایکٹیوزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشلزم کو بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینئرنگ ہے، اس تاثر کے ازالے کے اقدامات کر رہے ہیں‘چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا. انہوں نے کہا کہ میں اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پراستعمال کیا جائے گا، جوکسی کے مطالبے پرلیا گیا وہ سوموٹو نوٹس نہیں ہوتا،جب ضروری ہوا یہ عدالت سو موٹو نوٹس لے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے. انہوں نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے بجائے جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp