سعودی خواتین بیرون ملک سفر کے لیے آزاد ہو گئیں

بیرون ملک سفر کے لیے محرم یا ولی کی اجازت ختم ہونے کے بعدسے 12 ہزار خواتین بیرون ملک سفر کر چکی ہیں

ریاض : سعودی عرب میں خواتین کے لیے بہت سی آزادیاں اور حقوق دیئے جا رہے ہیں، خواتین کی بہت سے ایسے شعبوں میں بھی شمولیت ہوتی جا رہی ہے، جن میں ان کا داخلہ پہلے ممنوع ہو چکاتھا۔خصوصاً خواتین پر کئی عشروں سے عائد ڈرائیونگ پر پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سفر کے لیے ولی یا محرم کی اجازت کا پُرانا قانون بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کوئی سعودی خاتون بیرون ملک ولی یا محرم سے اجازت لیے بغیر سفر نہیں کر سکتی تھی۔
تاہم گزشتہ ماہ اس پابندی کو ختم کیے جانے کے بعد سے اب تک 12 ہزار سے زائد سعودی خواتین بیرون ملک سفر پر گئیں۔ سعودی اخبار ’الیوم‘ نے مختلف امیگریشن پوائنٹ کے حوالے سے جاری اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہے کہ 21 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین پر سے ولی کی اجازت کی پابندی ہٹائے جانے کے بعد اب تک 12 ہزار 123 سعودی خواتین دُنیا بھر کے مختلف ممالک میں گئیں۔
ہمسایہ عرب ریاستوں میں سفر کرنے والی سعودی خواتین کی تعداد 3590 بتائی جا رہی ہے، جنہوں نے مینی اور فضائی راستوں سے ان ممالک کا سفر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ریاض ایئرپورٹ سے 2818 سعودی خواتین بیرون ملک گئیں، مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ایئر پورٹ سے 817 خواتین نے بیرون ملک سفر کیا جبکہ جدہ اور طائف کے ایئر پورٹس سے 1890 خواتین روانہ ہوئیں۔
واضح رہے کہ ولی یا محرم کی مرضی کے بغیر بیرون ملک سفر پر سے پابندی صرف ان خواتین پر سے ہٹائی گئی ہے جن کی عمر 21 سال یا اس سے زائد ہے، نابالغ خواتین کے لیے بیرون ملک سفر کے لیے اپنے والدین یا ولی کی اجازت لینا لازمی ہے۔ اس شرط کے خاتمے سے ان خواتین کو فائدہ ہو گا جن کے محرم نہیں ہیں اور انہیں کسی مجبوری کے باعث بیرون ملک سفر کرنا پڑتا ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp