فیس بک نے پاکستان میں ویکسین سے متعلق غلط معلومات سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ قدم اٹھالیا

کراچی : عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے بیماریوں سے بچاؤ ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اور اسکی آگہی کے لئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے سنجیدہ قدم اٹھا لیا ہے۔ اردو زبان میں بھی آگہی مواد کے ساتھ لوگوں کو ویکسینز کے بارے میں مستند معلومات حاصل ہوں گی اور وہ فیس بک پر ایسے پلیٹ فارم سے جڑ سکیں گے جہاں لوگ کسی ویکسین سے متعلق کی ورڈ سرچ کرسکیں اور انہیں ایسے گروپ میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہو جہاں ویکسین سے متعلق گفتگو ہوتی ہو۔
فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر ویکسین سے متعلق غلط معلومات کی روک تھام کے لئے اسکی ڈسٹریبیوشن میں کمی لانے کے ساتھ اس موضوع پر مستند معلومات فراہم کرنے کے لئے کام کررہا ہے۔ فیس بک کے جاری بیان کے مطابق ایسے گروپس اور پیجز کی رینکنگ کم کی جائے گی جو نیوز فیڈ اور سرچ میں ویکسینیشنز سے متعلق غلط معلومات پھیلاتے ہیں۔ ان گروپس اور پیجز کو ریکمنڈیشنز اور پری ڈکشنز میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
فیس بک کے مطابق جب ہمیں ایسا اشتہار ملتا ہے جس میں ویکسینیشنز سے متعلق غلط معلومات ہوں تو ہم اسے مسترد کردیں گے۔ ہم متعلقہ آپشنز جیسے ویکسین تنازعات کو بھی ہٹا دیں گے۔ ایسے ایڈ اکاؤنٹس جو ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی جاری رکھیں گے ، اس پر ہم انہیں غیر فعال کرنے جیسی مزید کارروائی کریں گے۔ فیس بک ایسا مواد ظاہر یا تجویز نہیں کرے گا جس میں ویکسینیشنز سے متعلق غلط معلومات انسٹاگرام ایکسپلورر یا ہیش ٹیگ پیجز پر موجود ہو۔
فیس بک ویکسین سے متعلق آگہی پر مبنی مستند معلومات پھیلانے کے لئے بھی کام کررہا ہے جب لوگوں کو اس موضوع پر غلط معلومات کا سامنا ہو۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایسے پیجز پر عطیات کی وصولی کی رسائی بھی ہٹا دے گا جہاں ویکسین سے متعلق غلط معلومات ہو۔ صحت کے شعبے میں عالمی سطح پر کام کرنے والے ادارے جیسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یو ایس سینٹرز برائے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن نے ویکسین سے متعلق افواہوں کی عوامی سطح پر تصدیق کی ہے۔
اگر ویکسین سے متعلق یہ افواہیں فیس بک پر آتی ہے تو اس پر فیس بک کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی گروپ یا پیج ایڈمن ویکسین سے متعلق غلط معلومات پوسٹ کرتا ہے تو فیس بک اس پر پورے گروپ یا پیج کو ریکمنڈیشنز سے الگ کردے گا، نیوز فیڈ اور سرچ میں ان گروپس اور پیجز کی ڈسٹری بیوشن میں کمی لائے گا اور غلط معلومات کے ساتھ اشتہار مسترد کردے گا۔
فیس بک کے جاری بیان کے مطابق ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ لوگوں کو پس منظر کی معلومات بھی فراہم کی جائیں اور جب وہ اسے فیس بک پر دیکھیں تو وہ فیصلہ کرسکیں کہ انہیں کیا پڑھنا ہے، شیئر کرنا ہے یا اس معلومات سے متعلق گفتگو میں حصہ لینا ہے ۔ ہم ویکسین سے متعلق کام کرنے والے ماہر اداروں سے لوگوں کو انکی سرچز میں ابتدائی نمبروں پر نتائج کی فراہمی، پیجز پر گفتگو ہونے والا موضوع، اور موضوع سے متعلق گروپس میں شمولیت کی دعوت کے حوالے سے مصدقہ معلومات کی فراہمی کے لئے نئے راستے تلاش کررہے ہیں اور ہم اس پر جلد آگاہ کریں گے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 5 ستمبر 2019

Share On Whatsapp