Sailing Through Rock – Sailors Encounter Pumice Island The Size Of Manhattan

پتھروں پر جہاز رانی ۔ ملاحوں کو سمندر میں مین ہیٹن جتنے پتھریلے جزیرے کا سامنا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

ایک آسٹریلیوی جوڑا   اپنی چوبی کشی میں بحر الکاہل کے ذریعے فجی کی طرف جا رہا تھا کہ ان کا سامنا  جھانواں پتھروں کے 150 مربع کلومیٹر کے   ایک جزیرے سے ہوگیا۔ یہ جزیرہ آسٹریلیا کی طرف تیر رہا تھا۔ جھانواں پتھر (Pumice) آتش فشاں پہاڑوں کامسام دار سنگی مادہ ہوتا ہے  جو پانی سے ہلکا ہوتا ہے، اسی وجہ سے پانی پر تیرتا ہے۔
خیال کیا رہا ہے کہ یہ جزیرہ  ٹونگا جزائر کے پاس زیر آب آتش فشاں کے پھٹنے سے بنا تھا۔

اس جزیرے کا سائز فٹ بال کے  20 ہزار میدانوں کے برابر  ہے۔ اس کی موٹائی بھی کئی انچ پر مشتمل ہے۔اس جزیرے کی موجودگی کی اطلاع سب سے پہلے 16 اگست کو آسٹریلیوی جوڑے نے  دی جو آسٹریلیا سے فجی جا رہا تھا۔اس پتھریلے جزیرے نے اُن کی چوبی کشتی کی رفتار 1 ناٹ تک سست کر دی۔اس جوڑے کا کہنا ہے کہ  انہیں تا حد نگاہ جھانواں پتھر ہی نظر آ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے اُن کا جہاز پتھروں پر تیر رہا ہے۔
مائیکل ہولٹ اور لاریسا بریل  نے فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جزیرہ کنکر کے سائز سے لیکر باسکٹ بال سائز کے پتھروں سے بنا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ پتھروں کی وجہ سے اُن کی کشتی کا سٹیئرنگ جام ہوگیا تھا۔ انہوں نے کسی نہ کسی طرح  اپنا سفر جاری رکھا۔ ایک دوسرے جوڑے نے، جنہیں اچانک اس پتھریلے جزیرے کا سامنا کرنا پڑا تھا،  بتایا  کہ  انہیں اس پتھریلے جزیرے کو پار کرنے میں 6 سے 8 گھنٹے لگے۔
اس عرصے میں انہیں کہیں بھی  پانی نظر نہیں آیا۔ اُن کے مطابق اس جزیرے کی موٹائی 6 انچ تھی۔
جھانواں پتھروں کے جزیرے کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ  یہ اربوں سمندری مخلوق کا عارضی مسکن ہوتا ہے۔اس طرح کے جزیروں پر حشرات، جھینگے او ر گھونگھے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آسٹریلین ساحل کی طرف جانے والا یہ پتھریلا جزیرہ  گریٹ بیریئر ریف کو نئی قوت فراہم کرے گا۔


تاریخ اشاعت : اتوار 1 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں