To Treat 11-Month-Old's Fracture, Doctors First Had To Plaster Her Doll

11 ماہ کی بچی کے فریکچر کا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹروں کو پہلے اس کی گڑیا کو پلاسٹر چڑھانا پڑا

دہلی کے لوک نائیک ہسپتال  کے ایک بستر پر 11 ماہ کی ذکرا ملک  زیر علاج ہے۔ ڈاکٹروں نے   ذکرا کی ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا کر  اسے  بستر لٹکایا ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی بستر پر ذکرا کی پری نامی گڑیا  بھی ٹانگوں پر پلاسٹر چڑھائے  لیٹی ہے۔
17 اگست کو بستر سے گرنے کے بعد ذکرا کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ جب اُس کے گھر والے اسے لے کر ہسپتال پہنچے تو وہ پریشان ہو گئی۔

وہ روتی رہی اور علاج کرانے سے انکار کردیا۔
جب ذکرا حد سے زیادہ رونے لگی تو اُس کے والدین کو ایک افسانوی خیال آیا۔ وہ ذکرا کی گڑیا پری کو بھی ہسپتال لے آئے۔
ذکرا کی ماں فرحین نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ذکرا گھر میں ہر وقت گھومتی پھرتی رہتی ہے، وہ پانچ منٹ بھی ایک جگہ نہیں بیٹھتی۔ ایسے میں اسے مسلسل بستر پر لٹانا ایک مسئلہ تھا۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فرحین اور اُن کے شوہر نے ذکرا کی پری کو لاکر اُن کے ساتھ لٹا دیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ طریقہ کام کرگیا۔ذکرا نے جیسے ہی گڑیا کو دیکھا، وہ خوش ہوگئی۔ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پہلے ذکرا کی گڑیا پری کی ٹانگوں پر پلاسٹر چڑھایا، جس کے بعد وہ بھی اپنا علاج کرانے پر راضی ہوگئی۔
آرتھوپیڈک بلاک کے بیڈ نمبر 16 پر ذکرا اور اس کی گڑیا ایک ساتھ لیٹے ہیں۔ ان کی دوستی وارڈ میں اور انٹرنیٹ پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ہسپتال میں تو ذکرا ”گڑیا والی بچی“ کے نام سے مشہور ہوگئی ہے۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ وہ اگلے ہفتے تک بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 30 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں