"Pluto Is A Planet," Says NASA Administrator, Reigniting Old Debate

”پلوٹو ایک سیارہ ہے“ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر نے ایک بار پھر پرانی بحث چھیڑ دی

پلوٹو سے نظام شمسی کے 9ویں سیارے کا درجہ چھن جانے کو 13سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو پلوٹو کو نظام شمسی کا 9واں سیارہ مانتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں  ناسا کے ایڈمنسٹر جم برائیڈنسٹائن  بھی شامل ہیں۔
فاکس نیوز کے مطابق جم  نے حال ہی میں یونیورسٹی آف کولاڈو میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ابھی بھی پلوٹو کو  ایک سیارہ سمجھتے ہیں۔


سی این این کے مطابق انہوں نے یہ بیان 24 اگست کو دیا۔ اس دن ہی پلوٹو سے سیارے کا درجہ چھینا گیا تھا۔ اگست 2006 میں انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین نے ووٹ کے ذریعے  سے سیاروں  کی نئی تعریف متعین کی تھی اور پلوٹو اس تعریف پر پورا نہیں اترتا تھا۔اس ووٹنگ میں تقریباً ڈھائی ہزار ماہرین فلکیات نے حصہ لیا۔
جم برائیڈسٹائن کے بیان کو انٹرنیٹ پر کافی حمایت ملی ہے۔
2006 کے بعد پلوٹو کے سیارہ ہونے کے بارے میں بحث ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔
پلوٹو 1930ء میں دریافت ہوا تھا۔ 1930ء سے 2006ء تک  اسے نظامِ شمسی کے نویں سیارے کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔  2006ء میں اسے سیارے کی بجائے بونے سیارے کا درجہ دیا گیا ہے۔تقریباً 75 سالوں تک نظام شمسی کے 9 ویں سیارے کا درجہ پانے والے پلوٹو اور نظام شمسی کے حوالے سے یہ ایک اہم فیصلہ تھا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 29 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں