قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پاکستان سائیکالوجی کونسل کا بل منظور کرلیا

ڈریپ میں بہت کرپشن ہو رہی ہے،من پسند کمپنیوں کو نوازا جا رہا ہے، رمیش لال , پمز ہسپتال میں 8 کڈنی ٹرانسپلانٹ کر لیے ہیں،بون میرو کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، ای ڈی پمز

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پاکستان سائیکالوجی کونسل کا بل منظور کرلیا ۔ منگل کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خالد حسین مگسی کی زیر صدارت ہوا جس میں رمیش لال نے کہاکہ ڈریپ میں بہت کرپشن ہو رہی ہے،من پسند کمپنیوں کو نوازا جا رہا ہے۔ کمیٹی ممبر نثار چیمہ نے کہاکہ منسٹر صاحب کمیٹی سے غائب ہے، یہ کمیٹی کی توہین ہے۔ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے کہاکہ سرپرائز ٹیسٹ کبھی بھی ہو سکتا ہے، اداروں کو 365 دن تیار رہنا چاہیے۔
ممبر کمیٹی نے کہاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے فیصلے کو کوئی بھی اوور رول نہیں کر سکتا،پی ایم ڈی سی میں چار لوگوں کو کیوں نکالا گیا۔ ایم ڈی سی حکام نے کہاکہ سولہ جولائی کو فارغ ہونے والے پی ایم ڈی سی کے ممبرز میں سیکٹری کونسل کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ نثار چیمہ نے کہاکہ چیئر مین پی ایم ڈی سی کو آنا چاہیے تھا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ منسٹری خود بھی پی ایم ڈی سی کے بارے میں کنفیوڑن کا شکار ہے۔
ذو الفقار مختار کمیٹی ممبر نے کہاکہ کمیٹی کو کیا یہ جاننے کا حق نہیں ہے کہ کن بنیادوں پہ ممبران کو ہٹایا گیا۔ وزارت حکام نے کہاکہ منسٹری نے سعودی عرب میں رابطہ کیا ہوا ہے،جواب آتا ہے تو ممبران کو بتایا جائیگا۔ نثار چیمہ نے کہاکہ ایم ایس اور ڈی ایس میں ٹریننگ شامل نہیں ہے تاہم سعودی عرب کو یہ بنایا ہو گا کہ ہمارے ایم ایس اور ڈی ایس میں ٹریننگ شامل ہے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا نے کہاکہ میں حاضری لگانے کیلئے آیا ہوں۔ دور ان اجلاس ریاض فتیانہ نے پاکستان سائیکالوجی کونسل کا بل کمیٹی میں پیش کیا اور کہاکہ اس ادارے کو حکومت چلائیگی جبکہ ایک خود مختار ادارہ ہو گا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر بل منظور کرلیا ۔ڈاکٹر علی رضا چائلڈ اسپیشلسٹ نے بتایاکہ نفیسہ خٹک نے نومولود بچوں کی پیدائش کے وقت اسکریننگ کا بل کمیٹی میں پیش کر دیا۔
ڈاکٹر علی رضا چائلڈ اسپیشلسٹ نے کہاکہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پندرہ ہزار بچے روزانہ کی بنیاد پہ پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بارہ سو بچے تھائرائیڈ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں،تین سو میں سے ایک بچہ سماعت سے محروم ہوتا ہے۔ وزارت کے حکام نے بتایاکہ ہر سال ستر لاکھ بچہ پیدا ہو رہا ہے۔پبلک ہسپتال کو پابند کرنا ہو گا کہ کچھ بنیادی ٹیسٹ ہونے چاہئے۔
چیئرمین نے بل پر ڈاکٹر اور ہیلتھ منسٹری کو تفصیلاً غور کرنے کی ہدایت کر دی۔ایڈیشنل سیکرٹری نے بنیادی صحت مراکز کر کمیٹی کو بریفنگ دتے ہوئے کہا کہ 57 بیماریوں کے لیے 80 دوائیں چاہیں،50 سے 60 آلات چاہیں جنہیں ہر بنیادی صحت مراکز میں رکھا جائیگا۔ بنیادی صحت مراکز میں پمز اسپتال کے ڈاکٹروں کی تعیناتی پر اعتراض اٹھا دیا گیا ،معاون خصوصی سی ڈی اے علی نواز اعوان نے ڈاکٹروں کی تعیناتی پر مخالفت کی۔
صحت مراکز کے مطابق روات کو ڈینگی کے لیے حساس قرار دیا گیا ، وزارت صحت کے مطابق گزشتہ سال ترنول اور دیگر علاقوں میں ڈینگی کے لاروے برآمد ہوئے تھے، ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔علی نواز نے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ ہمیں ہوش تب آتا ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے، سیلاب آیا سیلاب آیا کو ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔علی نواز اعوان نے کہاکہ جب سیلاب آجاتا ہے تو ہنگامی صورتحال نافذ کر دی جاتی ہے، بنیادی صحت مراکز میں پمز کا کوئی ڈاکٹر حاضری نہیں دے گا یہ لکھ لیں ۔
علی نواز نے کہاکہ وہاں کے مقامی ڈاکٹروں کو موقع دینے میں کیا حرج ہے۔ای ڈی پمز نے بتایاکہ پمز ہسپتال میں 8 کڈنی ٹرانسپلانٹ کر لیے ہیں،بون میرو کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اب تک ہم نے 130 بون میرو ٹرانسپلانٹ کیے ہیں،ڈاکٹرز کی کمی کا سامنا ہے، لوئر سٹاف بھی کم ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 27 اگست 2019

Share On Whatsapp