27-Year-Old Woman Marries 83-Year-Old Grandpa, Claims It Was Love At First Sight

27 سالہ خاتون نے 83 سالہ شخص سے اپنی شادی کو پہلی نظر کی محبت قرار دے دیا

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ خاتون اور صوبہ وسطی جاوا کے 83سالہ  مقبول شمن ( شمالی ایشیا اور شمال مغربی امریکاکے بعض قبائل میں وہ پادری یا کاہن جو بدروحوں کے اثرات کو دور کرنے کا یا ان کو قبضے میں رکھنے کا ادعا کرتا ہے، سنیاسی یا عطائی) کی شادی نے شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی ہے۔ اگرچہ میاں اور بیوی کی عمر کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک تنازعہ بھی کھڑا ہوگیا لیکن 27 سالہ نورائینی کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے شوہر کو پہلی بار دیکھتے ہی،اُن سے محبت ہو گئی تھی۔

اس جوڑے کی شادی کی تقریب  83 سالہ سوڈیرگو کے گھر میں  میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں نورائینی کے گھر والے بھی شریک ہوئے۔
نورائینی نے بتایا کہ وہ پہلی بار اپنے گھر والوں سے ساتھ سوڈیرگو کے پاس  مشورے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پہلی بار سوڈیرگو کو دیکھا تو ان سے محبت ہوگئی۔ اس کے بعد بھی وہ مختلف بہانوں سے سوڈیرگو سے ملنے آتی رہیں۔نورائینی نے سوڈیرگو کو اپنے گھر پر بھی بلایا۔
سوڈیرگو کا کہنا ہے کہ اپنی عمر کی وجہ سے انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ نورائینی کا اُن کے ساتھ رومانوی تعلق ہے۔تاہم  سوڈیرگو بھی جلد ہی نورائینی کوپسند کرنے لگے۔ انہوں نے نورائینی کو  شادی کی پیش کش جسے انہوں نے فوراً قبول کر لیا۔
نورائینی نے اپنے گھر والوں سے شادی کی اجازت مانگی تو انہوں نے فوراً ہی اس کی اجازت دے دی۔ سوڈیرگو کے سب سے بڑے بیٹے کی عمر 51 سال ہے یعنی یہ نورائینی کے باپ  جتنی عمر ہی ہے۔
سوڈیرگو کے بیٹے ،بیٹیاں اور پوتے  حیران تھے کہ نورائینی اپنے کسی ہم عمر سے شادی کیوں نہیں کرتی۔ انہوں نے خود نورائینی سے کہا کہ وہ اپنے ہم عمر شخص سے شادی کرے لیکن نورائینی کا جواب تھا کہ وہ سوڈیرگو کو پسند کرتی ہے۔نورائینی کی محبت دیکھ کر سوڈیرگو کے گھر والوں نے بھی اس شادی کی اجازت دے دی۔شادی کی یہ تقریب 8 اگست کو منعقد ہوئی۔ یہ نورائینی کی پہلی اور سوڈیرگو کی چوتھی شادی ہے۔
جولائی 2017 میں بھی انڈونیشیا میں اسی طرح کی شادی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 16 سالہ لڑکے نے 71 سالہ خاتون سے شادی کر لی تھی۔ انہوں نے بھی اس شادی کو محبت کی شادی قرار دیا تھا۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 24 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں