راناثںاءاللہ اور اہل خانہ کے نام کروڑوں روپے کے گھر،پلاٹس،گاڑیاں اور دکانیں

یہ تمام پراپرٹی منشیات سمگلنگ سے بنائی گئی،اے این ایف نے راناثناءاللہ اور ان کے اہل خانہ کے تمام اثاثے منجمد کرنے کی استدعا کر دی

لاہور : پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکنِ پنجاب اسمبلی رانا ثناءاللہ اور ان کے فیملی ممبرز کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آئی ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ راناثناءاللہ کے نام کروڑوں روپے کے گھر، دکانیں اور گاڑیاں ہیں۔اے این ایف نے تمام اثاثے منجمد کرنے کی استدعا کی ہے۔اے این ایف ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما نام پر کروڑوں روپے کی مالیت کی 3 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں،راناثناءاللہ ،انکی فیملی ممبرز اور قریبی عزیزداروں کے نام پر کل 14 کمرشل پلاٹس ہیں۔
سابق صوبائی وزیر قانون،ان کی فیملی اور قریبی عزیزداروں کے نام پر 50 سے زائد دکانیں ہیں۔جب کہ راناثناءاللہ کے بھائی اور والدہ کے نام پر فیصل آباد میں دو گھر اور دو کمرشل ہالز ہیں،جب کی دستیاب دستاویزات کے مطابق راناثناءاللہ اور ان کے فیملی ممبرز کے بینک اکاؤنٹس میں بھی بھاری رقم موجود ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ ن لیگی رہنما نے تمام پراپرٹی منشیات سمگلنگ سے بنائی ہے۔
اے این ایف نے راناثناءاللہ اور ان کے اہل خانہ کے تمام اثاثے منجمد کرنے کی استدعا کی ہے۔جب کہ دوسری جانب ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رانا ثناءاللہ کا فرانسیسی حکومت کے تعاون سے چلنے والے واٹر پراجیکٹس سے ماہانہ نذرانے وصول کرنے کا انکشاف ہوا۔ اینٹی کرپشن نے سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تو مزید انکشافات سامنے آ گئے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ رانا ثناء اللہ فرانسیسی حکومت کے تعاون سے چلنے والے واٹر پراجیکٹس سے نہ صرف ماہانی نذرانے وصول کرتے تھے بلکہ واٹر پراجیکٹس میں ہونے والی بے ضابطگیوں میں ایم ڈی واسا فقیر محمد چوہدری کے بھی ان کے ساتھ ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن کی جانب سے شروع کی گئی انکوائری میں رانا ثناءاللہ کے دو قریبی ساتھیوں کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے جن سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 24 اگست 2019

Share On Whatsapp