نواز شریف اثاثے چھُپانے اور غلط بیان حلفی پر نا اہل ہوئے تھے

کاغذات نامزدگی میں تفصیلات چھپانے نے سسٹم اور لوگوں کو کرپٹ بنایا۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد : : سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنے اثاثے چھُپانے اور غلط بیان حلفی پر نا اہل ہوئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اثاثے چھپانے پر رکن اسمبلی کی نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کیا۔ معظم علی خان کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔ فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی میں تفصیلات چھپانے نے سسٹم اور لوگوں کو کرپٹ بنایا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی میں اُمیدواروں کو کوئی بھی رعایت تباہ کن ہو گی، اُمیدواروں کو پہلے ہی بہت رعایت مل چکی ہے۔ اُمیدواروں کو کاغذات نامزدگی میں رعایتی نمبروں سے پاس کرنے کے اچھے نتائج نہیں نکلے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اب ہمیں انتہا ہوتی ہوئی صورتحال کے لیے انتہائی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی نا اہلی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے نواز شریف نا اہلی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نے 2013ء کاغذات نامزدگی میں کیپیٹل ایف زیڈ ای سے قابل وصول اثاثے چھپائے۔ نواز شریف اثاثے چھپانے اور غلط بیان حلفی پر نا اہل ہوئے، عوامی نمائندگی ایکٹ اور آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت صادق و امین نہیں تھے، عوامی عہدیدار کا جان بوجھ کراثاثے چھپانا اورغلط بیان حلفی دینا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے والوں نے لوگوں کی قسمت کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ حقائق بتانا ایک امتحان بھی ہے اور فرض بھی، یہ فرض بغیر کسی داغ کے پورا کیا جانا چاہئیے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ امتحان غیر منصفانہ سہاروں کے بغیر پورا کیا جانا چاہئیے۔ جی ڈی اے کے رکن اسمبلی معظم علی خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اور زیر کفالت افراد کے اثاثے چُھپائے، معظم علی نے غلط بیان حلفی جمع کروایا جو بڑا جرم ہے۔ فیصلے کے مطابق معظم علی خان کی طرف سے اثاثے چھپانے کی وجوہات قابل قبول نہیں ہیں ۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 24 اگست 2019

Share On Whatsapp