اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کو معطل کردیا

جج ارشد ملک نے بیان حلفی اور پریس ریلیز میں اعتراف جرم کیا، جج ارشد ملک بادی النظر میں مس کنڈ کٹ کے مرتکب ہوئے،جج ارشد ملک کے خلاف لاہورہائیکورٹ تادیبی کارروائی کرے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی ہدایت پرنوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قراردے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے لاہور ہائیکورٹ سے سفارش کی ہے کہ جج ارشد ملک کے خلاف لاہورہائیکورٹ تادیبی کارروائی کرے،جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی اور پریس ریلیز میں اعتراف جرم کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی ہدایت پرجج ارشد ملک سے متعلق قائمقام رجسٹراراسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کی خدمات واپس لاہور ہائیکورٹ کو سونپتے ہوئے سفارش کی ہے کہ جج ارشد ملک نے 7 جولائی کو پریس ریلیز جاری کی تھی۔
جج ارشد ملک نے 11 جولائی کو بیان حلفی بھی جمع کرایا۔ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی اور پریس ریلیز میں اعتراف جرم کرلیا ہے۔ پریس ریلیز اوربیان حلفی میں ارشد ملک کے انکشافات مس کنڈکٹ کا اعتراف ہیں۔
جج ارشد ملک بادی النظر میں مس کنڈ کٹ کے مرتکب ہوئے۔
جج ارشد ملک کے خلاف لاہورہائیکورٹ تادیبی کارروائی کرے۔ واضح رہے گزشتہ روز
منگل کو سپریم کورٹ میں جمع کر وائی گئی رپورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے اعتراف کیا کہ ایک جج کو ملزموں سے نہیں ملنا چاہئیے لیکن میںم بلیک میلنگ کے باعث میاں نواز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے جج ارشد ملک سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔
ایک سوال کے جواب میں جج ارشد ملک نے تفتیشی ادارے کو بتایا کہ بلیک میلنگ کے ملزم میاں طارق سے میری ملتان میں صرف دو مرتبہ ہی ملاقات ہوئی تھی جب میں اپنا خراب ٹی وی ٹھیک کروانے کے لیے میاں طارق کے پاس لے کر گیا تھا۔ جج ارشد ملک نے بتایا کہ ان دنوں میں ملتان میں بطور ایڈیشنل سیشن جج تعینات تھا تاہم اس کے بعد جب میری ملتان سے باہر ٹرانسفر ہو گئی تو مجھے میاں طارق نے ایک ویڈیو کی بنیاد پر بلیک میل کرنا شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے ایف آئی اے کو بتایا کہ جب میں اپنا خراب ٹی وی واپس لینے گیا تو میاں طارق نے مجھے کچھ نشہ آور چیز کھلا کر میری ویڈیو بنا لی۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ بلیک میلنگ کے بعد میں بار بار میاں طارق کے پاس جانے پر مجبور ہو گیا تھا۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ ن نے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو میڈیا کو دی تھی ، اس ویڈیو اسکینڈل کا مرکزی کردار بھی میاں طارق کو ہی سمجھا جاتا ہے۔
جج ارشد ملک کے مبینہ ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار کے انٹرنیشنل بلیک میلر ہونے کاانکشاف بھی سامنے آیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ میاں طارق پاکستان کے ساتھ ساتھ دبئی میں بھی مختلف بڑے لوگوں کو لے جا کر وہاں ان کے لیے پارٹیاں ارینج کر کے وہاں بھی ان کی ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کرتا تھا ۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 22 اگست 2019

Share On Whatsapp