Pakistan Captaincy Would Be An Honour: Imad Wasim

قومی ٹیم کی قیادت ملنا اعزاز تاہم بورڈ سے مطالبہ نہیں کروں گا: عماد وسیم

انجری مسائل کے سبب میں ٹیسٹ کرکٹ کی بجائے محدود اوورز کی کرکٹ پر توجہ دینا چاہتا ہوں:آل راﺅنڈر

لاہور : قومی ٹیم کے نوجوان آل راﺅنڈر عماد وسیم نے کہا ہے کہ اگر انہیں قومی ٹیم کی قیادت کی پیشکش کی گئی تو یہ ان کےلئے بڑا اعزاز ہو گا لیکن وہ خود کرکٹ بورڈ سے اس عہدے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ورلڈ کپ کے بعد ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے ساتھ ساتھ پوری ٹیم مینجمنٹ کو تبدیل کردیا گیا ہے ،اس سے قبل چیف سلیکٹر انضمام الحق کی زیر سربراہی سلیکشن کمیٹی نے بھی مزید کام جاری نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اب قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی قیادت کے حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور ممکنہ طور پر وہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جبکہ انکی ون ڈے ٹیم کی قیادت پر بھی سوالیہ نشان برقرار ہے اورون ڈے ٹیم کی قیادت کےلئے سرفراز کی جگہ بابر اعظم اور عماد وسیم کو مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ایک انٹر ویو کے دوران عماد وسیم نے کہا کہ اگر انہیں قیادت کی پیشکش ہوئی وہ اسے یقیناً قبول کر لیں گے، ایک نوجوان کرکٹر کے طور پر وہ ہمیشہ پاکستان کےلئے کھیلنا چاہتا تھے اور انہیں اگر قیادت کی پیشکش ہوئی تو یہ بڑا اعزاز ہو گا۔
آل راﺅنڈر نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) سے قیادت دینے کا مطالبہ نہیں کریں گے اور اگر پی سی بی نے سرفراز کو کپتان برقرار رکھا یا کسی اور کو قیادت کا منصب سونپا تو وہ ہرگز اعتراض نہیں کریں گے۔عماد وسیم نے کہا کہ میرا کام کرکٹ کھیلنا ہے اور اگر مجھے ٹیم کی قیادت دی جاتی ہے تو یہ بہترین ہو گالیکن ایسا نہ بھی ہوا تو ٹیم کا رکن رہنا بھی اپنے آپ میں اعزاز کی بات ہے، میں کسی بھی کھلاڑی کی زیر قیادت کھیلنے میں خوشی محسوس کروں گا کیونکہ میں صرف پاکستان کےلئے کھیلنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔
آل راﺅنڈر نے ٹیسٹ کرکٹ میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجری مسائل کے سبب میں ٹیسٹ کرکٹ کی بجائے محدود اوورز کی کرکٹ پر توجہ دینا چاہتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں پورا ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکتا، میں کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک کھیل کر پاکستان کی خدمات کر سکوں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 22 اگست 2019

Share On Whatsapp