وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بھارت کے لیے ایک اور بڑی مشکل کھڑی کر دی گئی

مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں اقلیتوں پر ظلم کرنے والی مودی سرکار کو بے نقاب کرنے کے لیے لاہور میں ”انٹرنیشنل سِکھ کنونشن“ کی تیاریاں

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،22 اگست 2019ء(مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جنوبی ایشیا اس وقت جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جبکہ کشمیری عوام کی صدائے احتجاج کو دبانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کی انتہا کر دی گئی ہے۔ تاہم بھارت اور یورپ امریکا میں موجود سِکھ قوم پُوری طرح کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور سِکھوں کی اپنی علیحدگی کی خالصتان تحریک بھی دوبارہ زور شور سے کھڑی ہو گئی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر سِکھ قوم اور پاکستانیوں کو مزید قریب لانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق لاہور میں نومبر کے مہینے میں ’انٹرنیشنل سکھ کنونشن‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس کنونشن میں بھارت، کینیڈا، امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک سے پچاس کے قریب سِکھ سکالرز اور سِکھ رہنما شرکت کریں گے۔
جنہیں پاکستان کے سرکاری مہمان کا درجہ حاصل ہو گا۔ یہ عالمی سطح کا کنونشن31 اگست سے 2 ستمبر 2019ء تک گورنر ہاؤس میں ہو گا ۔اس 3 روزہ کنونشن کی میزبانی اور صدارت گورنر پنجاب چودھری سرور کریں گے جبکہ سِکھوں اور ہندوؤں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کا ذمہ دار وفاقی ادارہ متروکہ وقف املاک بورڈ بطور معاون کام کریے گا۔ کنونشن کے آخری روز تصویری نمائش کا اہتمام ہو گا۔
اس کنونشن کے انعقاد کا مقصد مودی سرکار کی اقلیتوں کے خلاف ظالمانہ پالیسیوں اور ان کے وجود کو مٹائے جانے کی خاطر اٹھائے جانے والے شر انگیز اقدامات کو دُنیا بھر کے سامنے لانا ہے۔ جس سے بھارت پر عالمی برادری کے دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس کنونشن کا موضوع ”دور بابا گورو نانک اور عصر حاضر کے تقاضے“ رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کنونشن میں شرکت کے لیے بھارت سے 11 ،امریکہ سے ایک، کینیڈا سے 7، فرانس سے ایک سکھ سکالر اور دیگر ممالک سے بھی سکالرز پاکستان آئینگے جن کی مجموعی تعداد 50سے زائد ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 22 اگست 2019

Share On Whatsapp