اراکین برطانوی پارلیمنٹ نے مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر دی

بھارتی اقدام کیخلاف آواز اٹھانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے‘ کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا فی الفور خاتمہ ہونا چاہیے‘جیرمی کوربن , مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے خواتین کی عصمت دری کے واقعات کی ایک سیاہ تاریخ ہے،ہم کشمیریوں کیساتھ ہیں‘سعیدہ وارثی

لندن : برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر یک زبان ہوکر مودی سرکار کے نفرت آمیز اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔چند روز پہلے برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے کشمیریوں کی حمایت میں کی گئی ٹویٹ میں کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات تکلیف دہ ہیں، کشمیریوں کے حق کا احترام کیا جائے اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا۔ جیرمی کوربن کی ٹویٹ کے بعد دیگر اراکین بھی میدان میں آگئے۔ایوان لیوس نے بھی بھارت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی اقدام کے خلاف آواز اٹھانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا فی الفور خاتمہ ہونا چاہیے اور قیام امن میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے 40 سے زائد ارکان نے مودی، برطانوی وزیراعظم اور سیکرٹری خارجہ کو خطوط بھی لکھے ہیں-برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سابق سربراہ سعیدہ وارثی نے کشمیر کی صورتحال پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے خواتین کی عصمت دری کے واقعات کی ایک سیاہ تاریخ ہے، کشمیری خواتین کو اس وقت ہماری مدد کی اشد ضرورت ہے اور ہم کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
جس کیلیے برطانوی دفترِ خارجہ عالمی سطح پر کشمیری خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک مؤثر آواز ہے۔قبل ازیں برطانوی لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ خالد محمود نے برطانوی سیکریٹری خارجہ کے نام اپنے خط میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے قانون سازی کے بغیر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا غیر قانونی عمل ہے۔
خالد محمود نے اپنے خط میں کشمیری قیادت کو نظربند کرنے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مزید کہا کہ مواصلاتی نظام معطل کرکے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ بھارت کے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں جن سے وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 14 اگست 2019

Share On Whatsapp