بھارتی انتہا پسند حکومت نے کشمیریوں کے حق میں بولنے والے سابق بیوروکریٹ اور سیاستدان کو گرفتار کر لیا

شاہ فیصل نے گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کشمیر کی خصوصی حیثیٹ ختم کرنے کو بھارتی آئین کا قتل قرار دیا تھا آج انہیں ملک سے باہر جانے کے لیے دہلی پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
نئی دہلی : بھارتی انتہا پسند حکومت نے کشمیر یوں ںے حق میں بولنے والے سابق بیوروکریٹ اور سیاستدان کو گرفتار کر لیا ہے۔ سابق بیوروکریٹ اور سیاستدانشاہ فیصل نے گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کشمیر کی خصوصی حیثیٹ ختم کرنے کو بھارتی آئین کا قتل قرار دیا تھااور آج انہیں ملک سے باہر جانے کے لیے دہلی پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔
شاہ فیصل نے گزشتہ روز رطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بہت برا کیا گیا ہے اور مودی اس قانون کو ایسے ختم نہیں کر سکتے جو 70سال کے ارتقاء کے بعد یہاں تک پہنچا۔ شاہ فیصل کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ سابق بھارتی بیوروکریٹ ہیں اور اس وقت بھارتی سیاست میں انکا بڑا نام ہے لیکن ان کے اس انٹرویو کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شاہ فیصل بھارت سے باہر جانا چاہتے تھے اور نئی دہلی ایئرپورٹ پر انہیں گرفتار کیا گیا۔ شاہ فیصل کو کشمیر لے جا کر انکے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ 
خیال رہے کہ اس سے پہلے کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ بھی گرفتار ہیں۔ دوسری جانب بڑی غیر مسلم بھارتی ریاست نے علیحدگی اختیار کرنے اور 14 اگست کو پاکستان کیساتھ یوم آزادی منانے کا اعلان کر دیا ہے۔
شورش زدہ بھارتیریاست ناگا لینڈ کی حکومت نے اپنی وفاقی حکومت بنانے، بھارت سے الگ ہونے اور 14 اگست 2019 کو یوم آزادی منانے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کشمیر پر قبضہ کرنے والا اور پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا ہے۔ سکھوں نے بھی کشمیر میں بھارتی ظلم کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی ہے جبکہ او آئی سی نے بھی کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کرے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 14 اگست 2019

Share On Whatsapp