The Plane That Returned To Flight After 60 Years In Glacier Ice

گلیشئر گرل۔ وہ جہاز جو 60 سالوں تک برف میں دھنسا رہنے کےبعد پھر اڑنے لگا

مارول کی فلم کیپٹن امریکا میں  ہیرو  دوسری جنگ عظیم کے بعد  کئی دہائیوں تک  برف میں   پھنسے رہتا ہے۔یہ  کہانی منجمد   افسانوی سپر ہیرو کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کہانی گلیشیئر گرل کے بارے میں ہے۔
گلیشیئر گرل  اپنے وقت کے بہترین لڑاکا طیاروں پی – 38 میں سے ایک ہے۔ یہ طیارے شمالی امریکا میں تیار کیے گئے تھے۔ انہوں  نے بحراوقیانوس عبور کر کے  یورپی اتحادیوں کی طرف سے لڑائی کی۔

ان طیاروں نے دوسری جنگ عظیم کے ایک آپریشن  بولیرو میں   حصہ لیا۔ اس آپریشن کے  منصوبہ سازوں کو امید تھی کہ اوقیانوس عبور کرتے ہوئے 10 فیصد طیارے کھو جائیں گے لیکن یہ نقصان 5.4 فیصد رہا۔
آپریشن بولیرو کے ساتھ ایک دن میں سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوا جب 15 جولائی 1942 کو خراب موسم اور محدود حد نگاہ کی وجہ سے 6 پی -38  لڑاکا اور بی-17 بمبار طیاروں کے ایک سکوارڈن کو اوقیانوس کے پار اپنے سفر کو مکمل کرنے کی بجائے گرین لینڈ کے ایک گلیشیئر پر اترنا پڑا۔

اس گلیشیئر پر 8 طیارے اترے۔ حیرت انگیز طور پر ہنگامی لینڈنگ کے باوجود طیاروں کے عملے کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ طیاروں کے عملے نے طیاروں کو وہیں چھوڑنے  اور پھر کسی وقت انہیں واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
ایک طیارے، جسے بعد میں گلیشئر گرل کا نام دیا گیا، کے پائلٹ ہیری سمتھ نے تو اپنی چابیاں تک کاک پٹ میں چھوڑ دی تھی تاکہ ریکوری ٹیم کے لیے آسانی رہے۔
عملے نے کئی ہفتے گلیشیئر پر گزارے، جس کے بعد ایک  ریسکیو  ٹیم نے انہیں بچا لیا۔
گلیشیئر گرل کو یہ   نام کینٹکی سے تعلق رکھنے والے  رائے شوفنر نے دیا۔ رائے شوفنر  نے اس جہاز کی   تلاش اور ریکوری کی مہم کےلیے فنڈز فراہم کیے تھے۔ان جہازوں کو جنگ عظیم کے دوران کوئی بھی لینے نہیں  آیا تھا تاہم ان کا مقام  حکام کو معلوم تھا۔ کئی دہائیوں کے بعد ہوابازی کےکچھ شوقین گرین لینڈ آئے اور ان جہازوں کی تلاش شروع کر دی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاز اپنے اصل مقام سے پھسل کر ایک میل دور جا پہنچے تھے۔اس کے علاوہ یہ جہاز 27 منزلہ جتنی عمارت اونچی برف کےنیچے دھنسے تھے۔ 268 فٹ اونچی برف کو عام کھدالوں سے نہیں ہٹایا جا سکتا تھا۔اس سے خدشات پیدا ہوئے کہ جہازوں کو پانے کی یہ مہم کامیاب بھی  ہو گی یا نہیں۔
جہازوں  پر  سے برف کو ہٹانے کے لیے کئی ڈیوائسز ایجاد کی گئیں۔
ان میں  سے ایک سپر گوفر (Super Gopher    )بھی تھی۔ اس ڈیوائس کی نوز کون سے گرم پانی نکل کر برف کو پگھلاتا تھا۔برف کے شدید بوجھ نے بی -17 بمبار طیاروں کو تو کچل دیا تھا لیکن پی-38 طیارے اچھی حالت میں تھے۔  مہم جوؤں نے جہازوں تک راستہ بنانے کے بعد جہاز  کو پرزوں میں الگ الگ کر دیا۔ان پرزوں کو   ایک دور دراز کے مقام پر لا کر جوڑا گیا۔ اس سارے عمل میں 10 سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا۔
2002 میں مہم جوؤں نے اس جہاز کو دوبارہ فضا میں اڑایا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اتنے زیادہ عرصے بعد جہاز کے واپس فضا میں اڑنے یا  اتنے طویل عرصے میں جہاز کی بازیابی  میں کونسی چیز زیادہ دلچسپ ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 9 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں