بھارت عالمی توجہ ہٹانے کیلئے پلوامہ ٹوجیسا واقعہ کرسکتا ہے، وزیرخارجہ

پاکستان کسی بھی جارحیت کیخلاف سیف گارڈ لے گا، فیصلہ کرلیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی، افغانستان کے ساتھ تجارت متاثر نہیں ہوگی، انڈراسٹینڈنگ برقرار ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد : وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت عالمی توجہ ہٹانے کیلئے پلوامہ ٹوواقعہ کرسکتا ہے، پاکستان کسی بھی جارحیت کیخلاف سیف گارڈ لے گا، فیصلہ کرلیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی، افغانستان کے ساتھ تجارت متاثر نہیں ہوگی، انڈراسٹینڈنگ برقرار ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کا کشمیر کو اندرونی معاملہ کہنا قانونی طور پرغلط ہے، اس کو مسترد کرتے ہیں۔
یہ تاثردرست نہیں کہ آرٹیکل 370 بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی متنازع مسئلہ ہے۔اقوام متحدہ میں کشمیر ایجنڈے پر متعدد قرارداد موجود ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کو محور بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہرونے 14بار وعدے کیے کہ کشمیر کا مسئلہ ان کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا۔بھارت کا مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کردینا ،کیا یہ فلاح وبہبود کا کام ہے؟بھارت کب تک ایک لاکھ 40 ہزار کشمیریوں کو قید رکھے گا؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اقوم متحدہ اور سلامتی کونسل میں دوبارہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
28 ممالک کو کشمیر ایشو سے متعلق آگاہ کیا ہے، ان تمام ممالک کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ان ممالک کو بتایا کہ بھارت کی یکطرفہ اقدام سے خطے میں سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا نے ہمارے تحفظات پر وضاحت کی ہے کہ بھارت نے یہ اقدام اٹھانے سے قبل ہم سے مشاورت کی ہے اور نہ ہی یہ معاملہ ہمارے علم میں تھا۔
بھارت نے صدرٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی تھی۔وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود محدود نہیں کی، فضائی حدود محدود کرنے کی خبریں غلط ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یورپی یونین کشمیر پر ڈائیلاگ میں کردارادا کرسکتی ہے، اور پاکستان مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ یورپی یونین کو باور کروایا کہ بھارت مذاکرات سے کترا رہا ہے۔
کرتار پورراہداری سے متعلق ہمارا وعدہ اب تک برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ جویہ سمجھتاہے کہ وزارت خارجہ بھارتی اقدام سے بے خبر تھی وہ ہمارے آفس میں لیٹر کی کاپی دیکھ سکتا ہے جو یکم اگست کو ہم نے بھیجی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت متاثر نہیں ہوگی،انڈراسٹینڈنگ برقرار ہے۔خدشہ ہے ،بھارت دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پلوامہ ٹو جیسا واقعہ کرسکتا ہے،فیصلہ کرلیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 8 اگست 2019

Share On Whatsapp