ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ مزدوروں کی فلاح و بہبود سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام اقدامات کو بروئے کار لائے، وزیراطلاعات ومحنت

شادی مدد، اسکالرشپ اور اموات کی صورت میں دی جانے والی گرانٹ کے نظام کو صاف اور شفاف بنایا جائے اور اس کا نظام آسان بنایا جائے تاکہ مزدروں اور محنت کشوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، سعید غنی

کراچی : وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام اقدامات کو بروئے کار لائے۔ تمام لیبر کالونیز، اسکولز اور ڈسپنسریوں کی آبادکاری اور ان کی حالت زار کو بہتر بنایا جائے جبکہ مزدوروں اور محنت کشوں کے بچوں کو مفت تعلیم، یونیفارم، کتابیں اور جوتوں کے ساتھ ساتھ کوشش کی جائے کہ یہ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اس ملک اور معاشرے میں اپنا مقام پیدا کریں۔
شادی مدد، اسکالرشپ اور اموات کی صورت میں دی جانے والی گرانٹ کے نظام کو صاف اور شفاف بنایا جائے اور اس کا نظام آسان بنایا جائے تاکہ مزدروں اور محنت کشوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعرات کے روز اپنے دفتر میں محکمہ محنت کے ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ کے تعارفی اجلاس کے دوران موجود افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ آصف علی میمن، ڈائریکٹر ورکس سید مظفر علی شاہ، ڈائریکٹر ایڈمن (ایجوکیشن) شہلا کاشف، ڈائریکٹر فنانس خالد حسین، ڈی ایس ایجوکیشن نزہت حبیب، اے او عبدالباسط، ڈی ایس رفیق چنا، ڈی ڈی ورکس فیصل شمس، احتشام خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سیکرٹری ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ آصف علی میمن نے محکمہ کے حوالے سے صوبائی وزیر سعید غنی کو تفصیلی بریفنگ دی اور انہیں ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ کے تحت صوبے بھر میں پری پرائمری، پرائمری، سیکنڈری، ماڈی اسکولز اور کالجز کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
انہوںنے بتایا کہ اس سال کم و بیش 40 ہزار مزدوروں اور محنت کشوں کے بچوں کو اسکول یونیفارمز، کتابین اور دیگر اشیاء کی فراہمی کی گئی ہے جبکہ ادارے کے ماتحت چلنے والے اسکولز اور کالج میں طلبہ اور طالبات کو مفت تدریسی سہولیات سمیت دیگر تمام سہولیات کی فراہمی کی جارہی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی کو ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کے ساتھ ساتھ جاری منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا۔
انہوںنے صوبائی وزیر کو رواں مالی سال کے بجٹ میں رکھی گئی نئی اسکیموں اور بجٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا کہ ہماری زیادہ تر توجہ مزدوروں اور محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی پر مرکوز کرنی ہوگی۔ انہوںنے کہا کہ ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ جہاں اپنے اداری میں رجسٹرڈ مزدوروں کے بچوں کو تعلیم، صحت اور دیگرضروریات زندگی کی فراہمی میں کوشاں ہیں وہاں وہ مزدور جو کسی بھی باعث تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کے بچوں کے لئے بھی ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے۔
سعید غنی نے کہا کہ لیبر کالونیز، اسکولوں، ڈسپنسریوں کی حالت زار کو بہتر سے بہتر کرنا ہوگا اور نئی رہائشی اسکیموں کے ساتھ ساتھ پرانی کالونیز کو بھی اپ گریڈ کرنا ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ سال مزدروں کے بچوں کی شادی کی مد میں 76.930 ملین روپے، اسکالرشپ کی مد میں 36.243 ملین روپے جبکہ اموات پر گرانٹ کی صورت میں 148.300 ملین روپے کی رقم فراہم کی گئی اور اس سال اس کے بجٹ میں مختص رقم میں شادی مدد کے لئے 300 ملین، اسکالرشپ کی مد میں 200 ملین جبکہ اموات پر گرانٹ کی مد میں 500 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
انہوںنے اس بار پر زور دیا کہ ان تینوں امداد کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور اس کا طریقہ کار آسان بنایا جائے تاکہ مزدروں اور ان کے اہل خانہ کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مزدوروں، محنت کشوں اور کسانوں کی جماعت ہے اور ہمارا منشور بھی محنت کشوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہے اور اس کے لئے ورکر ویلفیئر بورڈ سندھ کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 8 اگست 2019

Share On Whatsapp