سندھ ہائیکورٹ نے بلاول بھٹو کے سیاسی حریف کے قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست پر نوٹس جاری کردیئے

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے بلاول بھٹو کے سیاسی حریف کے قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست پر نوٹس جاری کردیئے۔جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس شمس الدین عباسی پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو بلاول بھٹو کے سیاسی حریف کے قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ بیرسٹر شاہد سومرو ایڈوکیٹ نے موقف اپنایا کہ پولیس افسران کیخلاف اسد اللہ نامی شہری کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا الزام ہے۔
اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکاروں نے اسد اللہ کو گذشتہ سال منگھو پیر سے حراست میں لیا۔ دوران حراست اسداللہ پر انتہائی تشدد کیا گیا اور گلشن معمار میں قتل کرکے پھینک دیا۔ میڈیکل رپورٹ نے بہیمانہ تشدد کی تصدیق کردی۔ اس کے باوجود خصوصی عدالت نے ملزمان کی ضمانت منظور کرلی، اب ملزمان مقدمے پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ اسد اللہ کا تعلق شہید بھٹو گروپ سے تھا، لاڑکانہ کے صدر بھی رہے۔
2018 کے انتخابات میں اسداللہ کے بھائی لاڑکانہ سے بلاول بھٹو کے مقابل تھے۔ خود اسد اللہ بھی 2013 میں غنوی بھٹو کے متبادل امیدوار تھے۔ پیپلز پارٹی نے اس خاندان کے خلاف 23 مقدمات درج کرائے تھے۔ عدالت نے ڈی ایس پی شہزاد علی ،انسپکٹر محمدسلیم اور سب انسپکٹر وقاص کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 8 اگست 2019

Share On Whatsapp