مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدام سے مودی کے انتہاء پسندانہ، دہشت گرد اور مسلم کش نظریہ اور ہمارے ترقی پسند نظریہ کے درمیان ٹکرائو کھل کر سامنے آگیا،

کشمیریوں کی تحریک خود ارادیت تحریک آزادی میں بدل چکی ہے، ان کو پاکستان کے ساتھ ان کے لازوال رشتے کے باعث سزا دی جا رہی ہے , میڈیا کو موجودہ حالات میں قومی بیانیہ کو اجاگر کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے , وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی پارلیمنٹ ہائوس میں وزارت اطلاعات و نشریات کے بیٹ رپورٹرز سے خصوصی گفتگو

اسلام آباد : وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدام سے دو نظریات کے درمیان ٹکرائو کھل کر سامنے آیا ہے، ہمارا نظریہ ترقی پسند سوچ کا ہے جبکہ دوسری طرف مودی کی انتہاء پسندانہ، دہشت گردانہ اور مسلم کش سوچ کا نظریہ ہے۔ میڈیا کو موجودہ حالات میں قومی بیانیہ کو اجاگر کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں وزارت اطلاعات و نشریات کے بیٹ رپورٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سیاسی بیانیے پیچھے رہ جاتے ہیں اور قومی بیانیہ کو ان پر فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے باعث ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، حکومت اور اپوزیشن کو متحد ہونا ہوگا۔
اس معاملہ پر سیاست کرنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام ارکان پارلیمنٹ کو اس معاملے پر اعتماد میں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس سے ہم نے کشمیری عوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ پوری پارلیمنٹ اور عوام کشمیر کے کاز پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم اپوزیشن نے اس موقع پر بھی پروڈکشن آرڈر اور ذاتیات کی سیاست کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے، اپوزیشن کو بھی تلخ تقریروں کی بجائے حقائق کا ادراک کرنا چاہئے اور ایسا سیاسی بیانیہ تشکیل دینا چاہئے جو قومی ہو۔ کشمیریوں کو پاکستان کے ساتھ ان کے لازوال رشتے کے باعث سزا دی جا رہی ہے۔ کشمیری پاکستان کو اپنے وجود کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کشمیری استصواب رائے کے ذریعے اپنا حق خود ارادیت مانگ رہے تھے جس کی پاکستان سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کر رہا تھا تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے۔
اب یہ تحریک خود ارادیت تحریک آزادی میں بدل چکی ہے۔ اس تناظر میں ہمیں اپنے مستقبل کی پالیسی کو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر میڈیا کا کلیدی کردار ہے، تمام صحافی محب وطن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بھارت کے ساتھ تنازعہ صرف دو نظریات کا ٹکرائو ہے۔ ایک طرف قائداعظم کی ترقی پسند سوچ ہے جبکہ دوسری طرف مودی کی انتہاء پسندانہ، دہشت گردانہ اور مسلم کش نظریہ ہے۔
قیام پاکستان کے وقت اس وقت کی قیادت نے قربانیاں دے کر اپنے خون سے یہ لکیر کھینچی۔ یہ ٹکرائو تہذیبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کا ٹکرائو ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر ہندوستانی ثقافت کی یلغار ہے جس کے اثرات ہمارے نوجوانوں پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں سرحدوں پر شکست نہیں دے سکتا۔ ہمیں آلودہ ہندوستانی کلچر سے اپنے نوجوانوں کو بچانا ہے۔
ہندوستان کے ساتھ تمام ثقافتی پروگرام، ڈرامہ اور فلموں سے متعلق روابط ختم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے 65 فیصد نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں، ان نوجوانوں کو قائداعظم کے نظریہ سے جوڑیں گے۔ قیام پاکستان کے وقت نوجوان قائداعظم کا ہراول دستہ تھے اور استحکام پاکستان کی تحریک میں یہ نوجوان ’’Say No to India‘‘ کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق میڈیا کو آگاہ رکھا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 8 اگست 2019

Share On Whatsapp