The Indonesian Island That Somehow Makes Mammals Smaller

انڈونیشیا کا یہ جزیزہ ممالیہ کو چھوٹا بنا دیتا ہے

انڈونیشیا کے فلورس جزیزے پر جب سے ”ہومو فلورنسز“ کی باقیات دریافت ہوئی ہیں، اس جزیرے نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ ہومو فلورنسز انسانوں کی ہی ایک نایاب نوع   تھی، جن کے قد کافی چھوٹے تھے۔ یہ نوع اب ختم ہو چکی ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس جزیرے  کی مٹی میں کچھ ایسی خاص بات ہے جو ممالیہ کو چھوٹا بنا دیتی ہے۔
اس سارے قصے کا آغاز 2004 میں ہوا جب لیانگ بوا کے غار میں سے 1.1 میٹر اونچے انسان کی باقیات ملی۔

اس کے ساتھ ہی یہاں سے 9 دوسرے  جزوی ڈھانچے بھی برآمد ہوئے۔تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ انسانوں کی ہی ایک قسم ہے، جسے ہومو فلورنسز(Homo Florensis) کا نام دیا گیا۔اندازہ ہے کہ یہ  اس جزیرے پر 1 الاکھ 90 ہزار سے 50 ہزار سال قبل تک اس جزیرے پر رہتے تھے۔یہ جدید بونے انسانوں سے بھی چھوٹے تھے۔ ان  کا اوسط قد 1.1 میٹر تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ جدید زمانے میں فلورس جزیرے پر رہنے والے  بونوں کے اجداد تھے۔
تاہم سائنسدانوں کو اس کے لیے ڈی این اے کے مزید ثبوت درکار ہونگے۔  لیانگ بوا غار کے قریبی  دیہاتوں میں آج بھی انسانوں کا اوسط قد 1.49 میٹر یا 4.9 فٹ ہے۔
2013 میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے علاقے کا دورہ کر کے لیانگ بوا کے قریبی دیہاتوں  کے رہائشیوں کے  لعاب دہن کے نمونے حاصل کیے تاکہ ان کے جنیوم کا تجزیہ کیا جا سکے۔ اس تحقیق کے نتائج پچھلے سال شائع ہوئے، جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان انسانوں میں  جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے افراد جیسا ہی ڈی این اے پایا گیا،  یعنی دونوں میں نیندرتھل اور ڈینیسوان ڈی این اے کی ایک سی تعداد پائی گئی۔ ان انسانوں میں ہومو فلورنسز ڈی این اے کا کوئی نشان تک نہ تھا۔
یہ تو سب کو معلوم ہے کہ موجودہ انسان 70 ہزار سال میں دو مختلف مواقعوں پر اس جزیرے پر آیاتھا۔
دونوں بار ہی اس کا قد چھوٹا ہوگیا۔ایسا نہیں ہے کہ اس جزیرے پر صرف انسان کا قد چھوٹا ہو جائے۔ اس جزیرے پر  ہاتھیوں کی ایک ایسی قسم پائی جاتی ہے ، جس کا  وزن 300 کلوگرام یا  دوسرے علاقوں کے ہاتھیوں کے وزن کا 18 واں حصہ ہوتا ہے۔ اس ہاتھی کا قد بھی اوسط انسان کے شانوں  تک ہوتا ہے۔
اس سے پتا چلتا  ہے کہ اس جزیرے میں ہی کچھ ایسا ہے جو انسانوں یا جانوروں کے قد کو چھوٹا کر دیتا ہے۔سائنسدان اس جزیرے پر مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 7 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں