Man Enraged By Sound Of Chewing Hasn’t Spoken To Family For Four Years

چبانے کی آواز سن کر غضب ناک ہونے والا شخص 4 سالوں سے خاندان میں کسی سے نہیں بولا

نایاب بیماری میں مبتلا ایک شخص  گزشتہ چار سالوں سے اپنے گھر والوں سے نہیں بولا ۔ یہ شخص چبانے کی آواز سن کر غضب ناک ہوجاتا ہے۔
41 سالہ ڈیرول مرفی  کو مسوفونیا(misophonia) نام کی بیماری ہے۔یہ ایک  دماغی بیماری ہے، جس میں مبتلا شخص  مخصوص آوازوں کو سن کر غضب ناک  یا تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص مخصوص آوازیں سن کر موقع سے بھاگ جانا چاہتا ہے۔

گرافکس ڈیزائن کمپنی میں پروڈکشن منیجر کے طور پر کام کرنے والے  ڈیرول  کی بیماری کو سلیکٹیو ساؤنڈ سینسی ٹیویٹی سینڈروم(selective sound sensitivity syndrome) بھی کہا جاتا ہے۔ڈیرول کو یہ بیماری طویل عرصے سے لاحق ہے لیکن چند سالوں  سے ہی اس کی شدت میں اتنا اضافہ ہوا ہے، جو انہیں غضب ناک کر دیتا ہے۔
مسوفونیا کی وجہ سے ہی ڈیرول کئی سالوں سے اپنے رشتے داروں سے نہیں مل پائے۔
ڈیرول کے رشتے داروں کو گلا کھنگارنے  اور تیز آواز میں کھانا چبانے کی عادت ہے۔ ڈیرول اپنے دفتر کے ایسے ساتھیوں پر بھی غصہ ہوجاتے ہیں، جو پین  کلک کرتے رہتے ہیں۔
سان ڈیاگو، امریکا سے تعلق رکھنے والے ڈیرول کا کہنا ہے کہ  وہ کئی سالوں سے مخصوص آوازیں سن کر پاگل ہو جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ  ہلکی آوازیں بھی انہیں غضب ناک کر دیتی ہیں۔

ڈیرول کاکہنا ہے کہ لوگ اسے سمجھتے  نہیں اور میں اس کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے رشتوں  کو متاثر کر رہا ہے، خاص طور پر خاندان والوں کے ساتھ رشتوں کو توڑتا ہے۔ڈیرول کا کہنا ہے کہ میں جارحانہ شخص نہیں ہوں، شور مجھے غصیلا بنا دیتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے چبانے کی آواز اُنہیں سب سے زیادہ تنگ کرتی ہے۔
ڈیرول کا کہنا ہے کہ وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوں تو کسی کے چمچ کے پلیٹ سے ٹکرانے کی آواز انہیں غصے میں بھر دیتی ہے۔
پلاسٹک  بیگز کی آوازیں انہیں پریشان کرتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 سالوں سے فلم نہیں دیکھی کیونکہ سینما میں لوگ اپنے پلاسٹک کے بیگز کھولتے ہیں۔
ڈیرول کو 30 سال کی عمر میں اپنی بیماری کا پتا چلا تھا۔ انہوں نے گوگل پر اپنی علامات سے سرچ کر کے اس بیماری کا پتا چلایا تھا۔ ڈیرول اب مخصوص آوازوں سے بچنے کے لیے موسیقی اور ٹی وی کا سہارا لیتے  ہیں۔ڈیرول دن میں تین گھنٹے  ہیڈ فون لگا کر رکھتے ہیں اور اب اس بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے لوگوں کو  اس بیماری کی معلومات دے رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : اتوار 4 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں