Doing 1,000 Squats Puts Competitive Girls In The Hospital

1000 بار گھٹنوں کے بل بیٹھنے اور کھڑے ہونے والی لڑکیاں ہسپتال پہنچ گئیں

ہمیں ہمیشہ بتایاجاتا  ہے کہ ورزش ہماری صحت کے لیے بہتر ہے لیکن دو چینی لڑکیوں کو اب پتا چل گیا ہے کہ ورزش کی  زیادتی سے جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
10 جولائی کو  چین  میں چونگ چنگ سے تعلق  رکھنے والی 19 سالہ ٹینگ  نے اپنی دوست کو گھٹنے کے بل بیٹھنے اور کھڑے ہونے کا چیلنج دیا۔ٹینگ دیکھنا چاہتی تھی کہ اُن دونوں میں سے کس میں زیادہ سٹیمنا ہے۔


ٹینگ اور اُن کی دوست نے ویڈیو کال شروع کی اور ایک ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھنے اور اٹھنے لگیں ۔ وہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ اُن سے سے پہلے کون رکتا ہے۔مسئلہ وہاں خراب ہوا جب دونوں  نے اسے سنجیدہ لے لیا اور اپنی ٹانگوں کی  طاقت ختم ہونے کے باوجود  اٹھک بیٹھک جاری رکھی۔ دونوں رکنے سے پہلے کم از کم ایک ہزار بار اٹھک بیٹھک کرنا چاہتی تھیں۔
اتنی زیادہ اٹھک بیٹھک سے ٹینگ کے عضلات جواب دے گئے۔اس مقابلے کا نتائج کافی  خطرناک نکلے۔ اگلے دن  ٹینگ کی ٹانگیں سوجی ہوئی تھی۔ ایسا عام طور پر ورزش کرنے سے ہو جاتا ہے۔ اس کے اگلے دن بھی ٹینگ کی ٹانگیں سوجی رہی لیکن وہ اپنے کام پر چلی گئیں۔تیسری صبح بھی اُن کی ٹانگیں سوجی رہی تو انہیں معاملے کی نزاکت کا احساس ہو۔ تیسرے دن اُن کی ٹانگیں اتنی زیادہ سوج چکی تھیں کہ وہ مڑ بھی نہیں رہیں تھیں۔
وہ کسی طرح باتھ روم تک  پہنچی۔ وہاں جا کر انہیں پتا چلا کہ اُن کے پیشاب کا رنگ  سیاہ ہوگیا ہے۔ انہیں فوج میں بتایا گیا تھا کہ یہ بہت زیادہ خراب جسمانی حالت کی نشانی ہے۔
ٹینگ فوراً ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹروں نے  انہیں rhabdomyolysis تشخیص کیا۔ یہ ایسی بیماری  ہے جس سے جان بھی جا سکتی ہے۔ یہ حالت مسلز فائبر کے مرنے اور اُن کا مواد  خون کے بہاؤ میں شامل ہونے سے ہوتی ہے۔
اس کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگی کے باعث  گردے کام کرنا بند کر دیتے  ہیں۔
ڈاکٹروں نے ٹینگ کو بتایا کہ وہ خوش قسمت ہے جو اتنی جلدی ہسپتال آ گئیں۔ دوسرا جوان ہونے کی وجہ سے ان کی صحت تیزی سے بحال ہوگی۔اگر یہ بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتا تو گردے بالکل کام کرنا بند کر دیتے۔
ٹینگ نے اپنی دوست کو ہسپتال سے فون کر کے اٹھک بیٹھک کے نتیجے میں اپنی حالت کا بتایا تو اُن کی دوست نے انہیں بتایا کہ اُن کی حالت بھی بالکل ایسی ہی ہے اور وہ بھی ہسپتال میں ہی داخل ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 2 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں