Parents Refuse To Donate Kidney To Their Dying Child Because She Is A Girl

والدین نے اپنی مرتی ہوئی بیٹی کو اس کے لڑکی ہونے کی وجہ سے اپنا گردہ دینے سے انکار کر دیا

گردوں کے کام نہ کرنے کے باعث ایک  16 سالہ بھارتی لڑکی بے بسی سے اپنی موت کا انتظار کر ر ہی ہے۔ اس کے والدین نے   لڑکی ہونے کی وجہ سے  اسے اپنا ایک گردہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
کنچن کماری کا تعلق شیخ پورہ کےایک گاؤں سے ہے۔ دو ماہ پہلے شدید بیمار ہونے پر انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔کئی ٹسٹ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ کنچن کے گردے کام کرنا بند ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹروں نے کنچن کے والدین کو بتایا کہ انہیں  اپنی بیٹی کے لیے جلد سے جلد ایک گردےکا بندوبست کرنا  ہوگا، تاکہ اسے بچایا جا سکے۔
بدقسمتی سے کنچن کے والدین میں سے کسی نے بھی اسے  اپنا گردہ دینے میں دلچسپی ظاہر نہیں  کی ۔ والدین کے گردہ نہ دینے کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ کنچن ایک لڑکی ہے اور اس کی تکلیف کوئی معنی نہیں رکھتی۔
کنچن کے والد راماشرے یادیو نے ایک مقامی  رپورٹر کو انٹرویو کے دوران  کہا کہ اسے کون گردہ دے گا، وہ ایک لڑکی ہے۔
لڑکی کی ماں نے بھی اپنی بیٹی کےلیے گردہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔
والدین کی طرف سے گردہ نہ دینے کی وجہ سے یہ کیس دنیا بھر میں وائرل ہو گیا ہے  اور لوگوں نے اس پر کافی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم لڑکی کے دادا نے ایک مختلف وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنچن کو گردہ دینے سے پورے خاندان  کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔بالیشور یادیو کا کہنا ہے کہ اگر لڑکی کا  یومیہ مزدوری پر کام کرنے والا باپ اپنا گردہ دے گا تو  وہ ایک گردے کے ساتھ مزدوری نہیں کر سکے گا جس سے پورے خاندان کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کنچن کے دونوں گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ گردوں  کی فراہمی کے علاوہ  سرجری کے اخراجات بھی تقریباً 1 لاکھ ڈالر ہونگے، جس کے بعد بھی بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کنچن کماری کا خاندان اتنا غریب ہے کہ   وہ سرجری کے طبی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ تاہم بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس خاندان نے دوسرا ڈونر تلاش کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اور نہ ہی حکومت سے کسی قسم کی اپیل کی ہے ۔
حالانکہ چیف منسٹر آف ریلیف فنڈ اس سے پہلے اسی طرح کے بہت سےمریضوں کی مدد کر چکے ہیں۔اس کی بجائے کنچن کا خاندان اپنی بیٹی کو گھر لے گیا ہے تاکہ خود ہی اس کا خیال رکھ سکے۔
کنچن کماری کی کہانی 27 جولائی کے دی سٹیٹسمین میں شائع ہوئی اور وائرل ہو گئی۔ بہت سےلوگوں نے کنچن کماری کی مالی مدد کی پیش کش تو کی ہے لیکن ابھی تک اس کےلیے کوئی ڈونر دستیاب نہیں ہوسکا ہے۔

کنچن کماری کے کیس سے بھارتی  عورت کی حالت ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق  بھارت میں بہت سے خواتین اپنا گردہ عطیہ کرتی ہیں لیکن  بہت کم خواتین کو ضرورت پڑنے پر گردہ دستیاب ہوتا ہے۔ پٹنہ کے  دو ہسپتالوں کے اعداد و شمار کے  مطابق  ان میں اب تک گردے کی تبدیلی کے 77 آپریشن ہوئے ہیں، جن میں 77 فیصد گردے  خواتین نے عطیہ کیے  تھے جبکہ گردہ لینے والوں میں خواتین کی تعداد صرف 8 فیصد تھی۔

تاریخ اشاعت : منگل 30 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں