Thousands Pay For Alien Abduction Insurance Policies That Offer £8million Payout

خلائی مخلوق کے ہاتھوں اغوا ہونے کے خدشے کے پیش نظرہزاروں افراد نے انشورنش پالیسی لے لی

6ہزار سے زیادہ افراد نے ایک انوکھی انشورنش پالیسی لی ہے۔ اس انشورنش پالیسی کے تحت ان افراد کے خلائی مخلوق کےہاتھوں اغوا ہونے کی صورت میں ان کے گھر والوں کو 1 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
یہ انوکھی انشورنش  آلٹامونٹ اسپرنگز، فلوریڈا  کی  سینٹ لارنس ایجنسی نے دی ہے۔ یہ انشورنش  پالیسی کلائنٹس کے مافوق الفطرت جگہوں جیسے ایریا 51 سے  خلائی مخلوق کے ہاتھوں اغوا  کا احاطہ کرتی ہے۔

خلائی مخلوق کے ہاتھوں  اغوا پر ایک کروڑ روپےدینے کی اس انشورنش کو حاصل کرنے کے لیے صرف 24.95 ڈالر یا 20 پاؤنڈ ادائیگی کرنی ہوگی، جس کے بعد انشورنش کرانے والوں کو  بذریعہ ڈاک  انشورش سرٹیفیکیٹ بھیجا جائے گا۔ اس ساتھ ساتھ 19.95 ڈالر یا 16 پاؤنڈ میں انشورنش کرا کر اس کی ڈیجیٹل کاپی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس انشورنش میں سب سے دلچسپ بات اس کا طریقہ اداائیگی ہے۔
انشورنش کمپنی  خلائی مخلوق کے ہاتھوں اغوا ہونے والوں کے ورثا کو  اگلے 10 سے 20 ملین سالوں تک ہر سال صرف 1 ڈالر ادا کرے گی۔
سینٹ لارنس ایجنسی کے مالک مائیک سینٹ لارنس کا کہنا ہے کہ   یہ انشورنش پالیسی  ایک فیس بک پیج کے ایریا 51 کے گھیراؤ کے اعلان کے بعد  کافی مقبول ہوئی ہے۔
ایک فیس بک پیج نے ایک ایونٹ تخلیق کیا ہے، جس کے مطابق 20 ستمبر کو ایریا 51 پر لاکھوں افراد دھاوا بولیں گے۔
20 لاکھ افراد نے  ایریا 51 پر جانے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم امریکی فضائیہ نے لوگوں کو اس ارادے سے باز رہنے کا کہا ہے۔
مائیک نے بتایا کہ اب تک دو افراد انشورنش کی رقم حاصل کرنے کے کلیم داخل کر چکے ہیں۔ ایک شخص نے تو پولورائیڈ کیمرے سے بنائی گئی  خلائی مخلوق کی تصاویر بھی بھیجی ہیں۔مائیک کا کہنا ہے کہ ان افراد کو آئندہ 10 سالوں تک 1 ڈالر سالانہ دیا جائے گا، جس کے بعد کمپنی کا ان سے معاہدہ منسوخ ہو جائے گا۔

امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ایریا 51  فضائیہ کی اوپن ٹریننگ رینج ہے اور یہاں امریکی مسلح افواج کی تربیت کی جاتی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائی امریکا اور اس کے اثاثہ جات کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔تاہم  ایریا 51 کے خفیہ ہونےکے باعث لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جگہ خلائی مخلوق سے رابطے کا ذریعہ ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 27 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں